تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 101
1+1 سورة النُّور تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اصل میں توسط اور اعتدال پر واقعہ ہے۔اور ہر یک افراط و تفریط سے جو قومی حیوانیہ میں پایا جاتا ہے منزہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ (التين :۵ ) الجز نمبر ۳۰۔اس لئے خُلق کے لفظ سے جو کسی مذمت کی قید کے بغیر بولا جائے ہمیشہ اخلاق فاضلہ مراد ہوتے ہیں۔اور وہ اخلاق فاضلہ جو حقیقت انسانیہ ہے۔تمام وہ خواص اندرونی ہیں جو نفس ناطقہ انسان میں پائے جاتے ہیں جیسے عقل ذ کا۔سرعت فہم۔صفائی ذہن۔حسنِ تحفظ - حسن تذکر عفت۔حیا۔صبر۔قناعت۔زہد۔تو رع۔جوانمردی۔استقلال۔عدل۔امانت صدق لہجہ - سخاوت فی محلہ۔ایثار فی محلہ - کرم فی محلہ مروت فی محلہ۔شجاعت فی محلہ۔علو ہمت فی محلہ علم فی محلہ محتمل فی محلہ - حمیت فی محلہ۔تواضع فی محلہ۔ادب فی محلہ۔شفقت فی محلہ۔رافت فی محلہ رحمت فی محلہ۔خوف الہی۔محبت الہیہ۔انس باللہ۔انقطاع الی اللہ وغیرہ وغیرہ ) اور تیل ایسا صاف اور لطیف کہ بن آگ ہی روشن ہونے پر آمادہ (یعنی عقل اور جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم کے ایسے کمال موزونیت و لطافت و نورانیت پر واقعہ کہ الہام سے پہلے ہی خود بخو د روشن ہونے پر مستعد تھے ) نور على نور نور فائض ہوا نور پر (یعنی جب کہ وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی نور جمع تھے سوان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔پس اس میں یہ اشارہ فرمایا کہ نور وحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے۔تاریکی پر وارد نہیں ہوتا۔کیونکہ فیضان کے لئے مناسبت شرط ہے۔اور تاریکی کو نور سے کچھ مناسبت نہیں۔بلکہ نور کو نور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا۔ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اسی کو اور نور بھی دیا جاتا ہے۔اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔اور انبیاء منجملہ سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے ہیں۔اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُورٌ وَ كِتب تمهين (المائدة : ١٢) - الجز نمبر 4 - وَدَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا (الاحزاب : ۴۷) نمبر ۲۲۔یہی حکمت ہے کہ نو روحی جس کے لئے