تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 89

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام b ۸۹ سورة النُّور مومن کے لئے منہیات سے پر ہیز کرنا اور اپنے اعضا کو نا جائز افعال سے محفوظ رکھنا لازم ہے اور یہی طریق اس کی پاکیزگی کا مدار ہے۔برائن احمد یه چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۰۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ نہ تو شہوت سے اور نہ بغیر شہوت کے بیگانہ عورت کے منہ پر ہر گز نظر نہ ڈال اور ان کی باتیں مت سن اور ان کی آواز مت سن اور ان کے حسن کے قصے مت سن کہ ان امور سے پر ہیز کرنا تجھے ٹھوکر کھانے سے بچائے گا۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے قُل لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ اَزْکی لَهُمْ یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم کو دیکھنے سے اپنی آنکھوں کو بند رکھیں اور اپنے کانوں اور ستر گاہوں کی حفاظت کریں یعنی کان کو بھی ان کی نرم باتوں اور ان کی خوبصورتی کے قصوں سے بچاویں کہ یہ سب طریق ٹھو کر کھانے کے ہیں۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۱۶) جو شخص آزادی سے نامحرم عورتوں کو دیکھتا رہے گا آخر ایک دن بد نیتی سے بھی دیکھے گا کیونکہ نفس کے جذبات ہر یک طبیعت کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور تجربہ بلند آواز سے بلکہ چھینیں مار کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ بیگانہ عورتوں کو دیکھنے میں ہرگز انجام بخیر نہیں ہوتا۔یورپ جو زنا کاری سے بھر گیا اس کا کیا سبب ہے یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہو گیا۔اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر ہو گیا پھر اس سے ترقی ہو کر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی یہاں تک کہ استاد جوان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جا کر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں اور کوئی منع نہیں کرتا۔شیرینیوں پر فسق و فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو نہ منہ کو۔یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔نور القرآن نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۱۶، ۴۱۷) ایمان داروں کو جو مرد ہیں کہہ دے کہ آنکھوں کو نامحرم عورتوں کے دیکھنے سے بچائے رکھیں اور ایسی عورتوں کو کھلے طور سے نہ دیکھیں جو شہوت کا محل ہوسکتی ہیں اور ایسے موقع پر خوابیدہ نگاہ کی عادت پکڑیں اور اپنے ستر کی جگہ کو جس طرح ممکن ہو بچاویں۔ایسا ہی کانوں کو نامحرموں سے بچاویں یعنی بریگا نہ عورتوں کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آوازیں نہ سنے۔ان کے حسن کے قصے نہ سنے۔یہ طریق پاک نظر اور پاک دل رہنے کے لئے عمدہ طریق ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۱)