تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 87

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۷ سورة النُّور خوشامد، خود پسندی، بدظنی اور بدکاری وغیرہ وغیرہ خباثتوں سے بچنا چاہیے۔اگر اپنے آپ کو ان خباثتوں سے بچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پاک و مطہر کر دے گا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۷) متقی کو تو کسی قسم کی تکلیف پیش نہیں آتی اور اسے حلال روزی پہنچانے کی ذمہ داری خود خدا نے لی ہے اور اس نے یہ وعدہ بھی فرمایا ہے کہ الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ۔۔۔۔وَ الطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ اس سے معلوم ہوا کہ خبیث اشیاء خبیث لوگوں کو بہم پہنچائی جاتی ہیں اور پاکیزہ چیزیں پاکیزہ لوگوں کو دی جاتی ہیں۔اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آیا ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کی دعوت کی اور بکری کا گوشت بھی پکایا اور سور کا بھی۔جس کی دعوت کی وہ ایک پاکیزہ آدمی تھاس کے آگے اس نے دیدہ و دانستہ سور کا گوشت رکھا اور اپنے آگے بکری کا۔خدا تعالیٰ نے اس پر کشف سے یہ امر کھول دیا۔جب بسم اللہ کا حکم ہوا تو اس نے کہا ٹھہرو یہ تقسیم ٹھیک نہیں ہے چنانچہ وہ اپنے آگے کی رکابیاں اُٹھا کر صاحب خانہ کے آگے اور اس کے آگے کی اُٹھا کر اپنے آگے رکھتا جاتا تھا اور یہی آیت پڑھتا تھا کہ الْخَبِيثُتُ الخ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخه ۷ /اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۲۶) قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بجز زنا کے اپنی بیوی کی ہر یک ناپاکی پر صبر کرو اور طلاق مت دو بلکہ وہ کہتا ہے الطَّيِّبتُ لِلطَّيِّبين قرآن کا یہ منشاء ہے کہ نا پاک پاک کے ساتھ رہ نہیں سکتا۔پس اگر تیری بیوی زنا تو نہیں کرتی مگر شہوت کی نظر سے غیر لوگوں کو دیکھتی ہے اور ان سے بغل گیر ہوتی ہے اور زنا کے مقدمات اس سے صادر ہوتے ہیں گو ابھی تکمیل نہیں ہوئی اور غیر کو اپنی برہنگی دکھلا دیتی ہے اور مشرکہ اور مفسدہ ہے اور جس پاک خدا پر تو ایمان رکھتا ہے اس سے وہ بیزار ہے تو اگر وہ باز نہ آوے تو تو اسے طلاق دے سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے اعمال میں تجھ سے علیحدہ ہوگئی۔اب تیرے جسم کا ٹکٹ نہیں رہی۔پس تیرے لئے اب جائز نہیں ہے کہ تو دیوٹی سے اس کے ساتھ بسر کرے کیونکہ اب وہ تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں ایک گندہ اور متعفن عضو ہے جو کاٹنے کے لائق ہے ایسا نہ ہو کہ وہ باقی عضو کو بھی گندہ کر دے اور تو مر جاوے۔کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۹) أوليكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ۔یہ اس مقام کی آیت ہے کہ جہاں بے لوث اور بے گناہ ہونا ایک کا ایک وقت تک مشتبہ رہا پھر خدا نے اس کی طرف سے ڈیفنس پیش کر کے اس کی بریت کی۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۴۱) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَ تُسَلِّمُوا عَلَى