تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 86
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۶ سورة النور نے بیوی کو کہا کہ تو بھی میرے ساتھ مسلمان ہو۔ اس نے کہا کہ اب میرا مسلمان ہونا مشکل ہے۔ یہ عادتیں جو شراب وغیرہ اور آزادی کی پڑ گئی ہیں یہ نہیں چھوٹ سکتیں ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۷۳) انک عائشہ رضی اللہ عنہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اول کوئی اطلاع نہ ہوئی۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ حضرت عائشہ اپنے والد کے گھر چلی گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی کہا کہ اگر ارتکاب کیا ہے تو توبہ کرلے۔ ان واقعات کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو کس قدر اضطراب تھا مگر یہ راز ایک وقت تک آپ پر نہ کھلا لیکن جب خدا تعالیٰ نے اپنی وحی سے تبریہ کیا اور فرمایا الخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ ۔۔۔۔ وَالطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبين تو آپ کو افک کی حقیقت معلوم ہوئی ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۸) ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ متقی کو ایسی مشکلات میں نہیں ڈالتا ۔ الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ متقیوں کو اللہ تعالیٰ خود پاک چیزیں بہم پہنچاتا ہے اور خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے ہیں۔ اگر انسان تقویٰ اختیار کرے اور باطنی طہارت اور پاکیزگی حاصل کرے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پاکیزگی ہے تو وہ ایسی ابتلاؤں سے بچالیا جاوے گا۔ ایک بزرگ کی کسی بادشاہ نے دعوت کی اور بکری کا گوشت بھی پکایا اور خنزیر کا بھی ۔ اور جب کھانا رکھا گیا تو عمداً سور کا گوشت اس بزرگ کے سامنے رکھ دیا اور بکری کا اپنے اور اپنے دوستوں کے آگے۔ جب کھانا رکھا گیا اور کہا کہ شروع کرو اور یہ تو اللہ تعالیٰ نے اس بزرگ پر بذریعہ کشف اصل حال کھول دیا۔ انہوں نے کہا ٹھہر ویہ ٹھہرو یہ تقسیم ٹھیک نہیں کہہ کر اپنے آگے کی رکا بیاں ان کے آگے اور ان کے آگے کی اپنے آگے رکھتے جاتے تھے اور یہ آیت پڑھتے جاتے تھے کہ الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ الآ یہ غرض جب انسان شرعی امور کو ادا کرتا ہے اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور بری اور مکروہ باتوں سے اس کو بچا لیتا ہے الا مَا رَحِمَ رَبِّي ( يوسف : ۵۴) کے یہ معنے ہیں۔ الحکم جلدے نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۰) سے انسان اگر اپنے نفس کی پاکیزگی اور طہارت کی فکر کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر گنا ہوں بچتا رہے تو اللہ تعالیٰ یہی نہیں کہ اس کو پاک کر دے گا بلکہ وہ اس کا متکفل اور متولی بھی ہو جائے گا اور ایسے خبیثات سے بچائے گا۔ الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ کے یہی معنے ہیں ۔ اندرونی معصیت، ریا کاری ، جب ، تکبر،