تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 85
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۵ سورة النُّور وقت کی اس پر گواہ ہے۔اگر وہ رشوت لے کر گھر آیا ہے تو اس کی عورت کہے گی کہ جب خاوند لایا ہے تو میں کیوں حرام کہوں۔غرضیکہ مرد کا اثر عورت پر ضرور پڑتا ہے اور وہ خود ہی اسے خبیث اور طیب بناتا ہے۔اس لئے لکھا ہے الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ۔۔۔۔و الطيبتُ لِلطَّيِّبين اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم طیب بنو ورنہ ہزاروں ٹکریں مارو کچھ نہ بنے گا جو شخص خدا سے خود نہیں ڈرتا تو عورت اس سے کیسے ڈرے۔نہ ایسے مولویوں کا وعظ اثر کرتا ہے نہ خاوند کا۔ہر حال میں عملی نمونہ اثر کیا کرتا ہے۔بھلا جب خاوند رات کو اُٹھ کر دعا کرتا ہے، روتا ہے تو عورت ایک دن دو دن تک دیکھے گی آخر ایک دن اسے بھی خیال آوے گا اور ضرور مؤثر ہوگی۔عورت میں مؤثر ہونے کا مادہ بہت ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب خاوند عیسائی وغیرہ ہوتے ہیں تو عورتیں ان کے ساتھ عیسائی وغیرہ ہو جاتی ہیں۔ان کی درستی کے واسطے کوئی مدرسہ بھی کفایت نہیں کر سکتا جتنا خاوند کا عملی نمونہ کفایت کرتا ہے۔خاوند کے مقابلہ میں عورت کے بھائی بہن وغیرہ کا بھی اثر کچھ اس پر نہیں ہوتا۔خدا نے مرد عورت دونوں کا ایک ہی وجود فرمایا ہے۔یہ مردوں کا ظلم ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایسا موقع دیتے ہیں کہ وہ ان میں نقص پکڑیں ورنہ ان کو چاہیے کہ عورتوں کو ہرگز ایسا موقع نہ دیں کہ وہ یہ کہ سکیں کہ تو فلاں بدی کرتا ہے بلکہ عورت ٹکر مار مار کر تھک جاوے اور کسی بدی کا پتہ اسے مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہوتا ہے اور وہ دین کو سمجھتی ہے۔(البدرجلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۶۸) مرد اپنے گھر کا امام ہوتا ہے پس اگر وہی بداثر قائم کرتا ہے تو پھر کس قدر بداثر پڑنے کی امید ہے۔مرد کو چاہیے کہ اپنے قومی کو برحل اور حلال موقع پر استعمال کرے۔مثلاً ایک قوت عصبی ہے جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے۔مرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے اس طرح وہ دیکھتی ہے کہ میرے خاوند میں فلاں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں جیسے سخاوت، حلم، صبر اور جیسے اسے پر کھنے کا موقع ملتا ہے وہ دوسرے کومل ، نہیں سکتا اسی لئے عورت کو سارق بھی کہا ہے کیونکہ یہ اندر ہی اندر اخلاق کی چوری کرتی رہتی ہے حتی کہ آخر کار ایک وقت پورا اخلاق حاصل کر لیتی ہے۔ایک شخص کا ذکر ہے کہ وہ ایک دفعہ عیسائی ہوا تو عورت بھی اس کے ساتھ عیسائی ہوگئی۔شراب وغیرہ اول شروع کی پھر پردہ بھی چھوڑ دیا۔غیر لوگوں سے بھی ملنے لگی۔خاوند نے پھر اسلام کی طرف رجوع کیا تو اس