تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 84

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۴ سورة النُّور کوئی عہد کیا جائے تو اس کا توڑ نا حسنِ اخلاق میں داخل ہے۔مثلاً اگر کوئی اپنے خدمتگار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچاس جوتے ماروں گا تو اس کی تو بہ اور تضرع پر معاف کرنا سنتِ اسلام ہے تا باخلاق ہو جائے مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں۔ترک وعدہ پر باز پرس ہو گی مگر ترک وعید پر نہیں۔اتخلق (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۸۱) لوگوں کے گناہ بخشو اور ان کی زیادتیوں اور قصوروں کو معاف کرو کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا بھی تمہیں معاف کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور وہ تو غفور الرحیم ہے۔اور انجیل نے بھی صبر اور عفو کی تعلیم دی ہے مگر اکثر لوگوں کو شاید یہ بات یاد نہیں ہوگی کہ حضرت عیسی انجیل میں فرماتے ہیں کہ مجھے دوسری قوموں سے سروکار نہیں میں صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آیا ہوں۔یعنی میری ہمدردی صرف یہودیوں تک محدود ہے مگر قرآن شریف میں صاف لکھا ہے کہ دوسری قوموں سے بھی ہمدردی کرو جیسا کہ اپنی قوم کے لئے اور دوسری قوموں کو بھی معاف کرو جیسا کہ اپنی قوم کو۔(چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۷) الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَتِ ۚ وَالطَّيِّبَتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ ط لِلطَّيِّبَتِ أُولَبِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ۔انبیاء علیہم السلام اور اللہ تعالیٰ کے مامور خبیث اور ذلیل بیماریوں سے محفوظ رکھے جاتے ہیں مثلاً جیسے آتشک ہو جذام ہو یا اور کوئی ایسی ہی ذلیل مرض، یہ بیماریاں خبیث لوگوں ہی کو ہوتی ہیں الْخَبیثت لِلْخَبِيثِينَ۔اس میں عام لفظ رکھا ہے اور نکات بھی عام ہیں اس لئے ہر خبیث مرض سے اپنے ماموروں اور برگزیدوں کو بچا لیتا ہے یہ بھی نہیں ہوتا کہ مومن پر جھوٹا الزام لگایا جاوے اور وہ بری نہ کیا جاوے خصوصاً مصلح اور مامور، یہی وجہ ہے کہ مصلح یا مامور حسب نسب کے لحاظ سے بھی ایک اعلیٰ درجہ رکھتا ہے۔احکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۱۷ رفروری ۱۹۰۱ صفحه (۸) مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالح ہو سکتی ہے ہاں اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالح بن سکتی ہے۔قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہیے بلکہ فعل سے اگر نصیحت دی جاوے تو اس کا اثر ہوتا ہے۔عورت تو در کنار اور بھی کون ہے جو صرف قول سے کسی کی مانتا ہے اگر مرد کوئی بھی یا خامی اپنے اندر۔در کھے گا تو عورت ہر