تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 78

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ZA سورة المؤمنون فطرت میں تو ہمات کے داخل ہو جانے سے جو بعض نقص پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی وجہ سے كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ کہا گیا ہے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۹) ام يَقُولُونَ بِهِ جِنَّةٌ بَلْ جَاءَهُم بِالْحَقِّ وَ اكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كَرِهُونَ وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ وَ مَنْ فِيْهِنَّ بَلْ آتَيْنَهُم بذكرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُعْرِضُونَ۔) کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے؟ نہیں۔بلکہ بات تو یہ ہے کہ خدا نے ان کی طرف حق بھیجا اور وہ حق کے قبول کرنے سے کراہت کر رہے ہیں اور اگر خدا ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو زمین اور آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب بگڑ جاتا بلکہ ہم ان کے لئے وہ ہدایت لائے ہیں جس کے وہ محتاج ہیں۔سو جس ہدایت کے وہ محتاج ہیں اسی سے کنارہ کش ہیں۔برائین احمد یہ چہار قصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۶٬۲۴۵ حاشیہ نمبر ۱۱) ، نمبر۱۱) مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَ مَا كَانَ مَعَهُ مِنْ الهِ إِذَا لَذَهَبَ كُلُّ الهِم بِمَا خَلَقَ وَ ވ މ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلى بَعْضٍ سُبُحْنَ اللهِ عَمَّا يَصِفُونَ۔® اگر زمین آسمان میں بجز اس ایک ذات جامع صفات کاملہ کے کوئی اور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے۔کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے خلاف کام کرتے۔پس اس پھوٹ اور اختلاف سے عالم میں فساد راہ پاتا اور نیز الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحد ان میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور ان کے آرام کے لئے دوسروں کا برباد کر نا روا رکھتا۔پس یہ بھی موجب فساد عالم ٹھہرتا۔برائن احمد یہ چہار صص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۱۹،۵۱۸ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) وَ إِنَّا عَلَى أَنْ تُرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقَدِرُونَ۔97 اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ ہم ان کی نسبت وعدہ کرتے ہیں وہ تجھے دکھلا دیں۔( براتین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۴ حاشیہ نمبر ۱۱)