تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 74

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۷۴ سورة المؤمنون ٹیلہ کا ذکر کرتا ہے جس میں میسٹی اور اُس کی ماں کو جگہ دی گئی اور آپ لوگ خواہ مخواہ اس کو آسمان پر بٹھاتے ہیں اور محض بیکار۔بھلا بتلاؤ تو سہی کہ نبی ہو کر اتنی مدت کیوں بریکار بیٹھ رہا ہے۔( اعجاز احمدی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲۸،۱۲۷) أوَيْنَهُمَا إِلى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِین یعنی اس مصیبت کے بعد جو صلیب کی مصیبت تھی ہم نے مسیح اور اس کی ماں کو ایسے ملک میں پہنچادیا جس کی زمین بہت اونچی تھی اور صاف پانی تھا اور بڑے آرام کی جگہ تھی۔اور احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد عیسی ابن مریم نے ایک سو بیس برس عمر پائی اور پھر فوت ہو کر اپنے خدا کو جاملا اور دوسرے عالم میں پہنچ کر یحی" کا ہم نشین ہوا کیونکہ اس کے واقعہ اور بیٹی نبی کے واقعہ کو با ہم مشابہت تھی۔تذكرة الشهادتين، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۹) اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا کشمیر کی طرف سفر کرنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو بے دلیل ہو، بلکہ بڑے بڑے دلائل سے یہ امر ثابت کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ خود لفظ کشمیر بھی اس پر دلیل ہے کیونکہ لفظ کشمیر وہ لفظ ہے جس کو کشمیری زبان میں کشیر کہتے ہیں۔ہر ایک کشمیری اس کو کشیر بولتا ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ لفظ عبرانی ہے کہ جو کاف اور اشیر کے لفظ سے مرکب ہے اور اشیر عبرانی زبان میں شام کے ملک کو کہتے ہیں اور کاف مماثلت کے لئے آتا ہے۔پس صورت اس لفظ کی تلشیر تھی یعنی کاف الگ اور آئیشیر الگ۔جس کے معنے تھے مانند ملک شام یعنی شام کے ملک کی طرح اور چونکہ یہ ملک حضرت عیسی علیہ السلام کی ہجرت گاہ تھا اور وہ سرد ملک کے رہنے والے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی کو تسلی دینے کے لئے اس ملک کا نام تحلیشیر رکھ دیا۔جس کے معنے ہیں اشیر کے ملک کی طرح۔پھر کثرت استعمال سے الف ساقط ہو گیا۔اور کشیر رہ گیا۔پھر بعد اس کے غیر قوموں نے جو کشیر کے باشندے نہ تھے اور نہ اس ملک کی زبان رکھتے تھے ایک میم اس میں زیادہ کر کے کشمیر بنا دیا۔مگر یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ کشمیری زبان میں اب تک کثیر ہی بولا جاتا اور لکھا جاتا ہے۔ما سوا اس کے کشمیر کے ملک میں اور بہت سی چیزوں کے اب تک عبرانی نام پائے جاتے ہیں بلکہ بعض پہاڑوں پر نبیوں کے نام استعمال پاگئے ہیں جن سے سمجھا جاتا ہے کہ عبرانی قوم کسی زمانہ میں ضرور اس جگہ آبادرہ چکی ہے جیسا کہ سلیمان نبی کے نام سے ایک پہاڑ کشمیر میں موجود ہے اور ہم اس مدعا کے ثابت کرنے کے لئے ایک لمبی فہرست اپنی بعض کتابوں میں شائع کر چکے ہیں جو عبرانی الفاظ اور اسرائیلی نبیوں کے نام پر