تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 73

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۳ سورة المؤمنون ابْنِ ابْنِ نُوحٍ سَاوِى إِلى جَبَلٍ يَعْصِنِی کا علاج کر دیا گیا ہے۔پھر نوح علیہ السلام کے بیٹے کے قول کا مِنَ الْمَاءِ فَمَا كَانَ قَصْدُهُ جَبَلاً ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے کہا سَاوِى إِلَى جَبَلٍ يَعْصِنِى مِنَ رَفِيعًا إِلَّا بَعْدَ رُؤْيَةِ الْبَلاء الْمَاءِ۔اور اس کا بلند و بالا پہاڑ کی طرف جانے کا ارادہ مصیبت فَبَيَّنُوا لَنَا الى بَلَاء نَزَلَ عَلَى انن کو دیکھ لینے کے بعد ہی ہوا تھا۔اب خود ہی بتائیں کہ مسیح علیہ السلام مَرْيَمَ وَمَعَهُ عَلَى أُمِّهِ أَشَدُّ مِن بَلاء اور ان کی والدہ پر صلیب کے ابتلاء سے بڑھ کر اور کون سی بڑی الصَّلِيبِ ثُمَّ آئی مَكَانٍ أَوَاهُمَا مصیبت نازل ہوئی تھی اور کشمیر کے ٹیلے کے سوا اور کون سی جگہ الله إلَيْهِ مِن دُونِ ربوہ گھمبیر ہے جس میں اس کٹھن وقت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو بَعْدَ ذَالِكَ الْيَوْمِ الْعَصِيب۔پناہ دی۔( ترجمه از مرتب ) ( الهدى و التبصرة لمن يرى ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶۸ حاشیه ) خدا تو کہتا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد عیسی اور اُس کی ماں کو ہم نے ایک ٹیلہ پر جگہ دی جس میں صاف پانی بہتا تھا یعنی چشمے جاری تھے بہت آرام کی جگہ تھی اور جنت نظیر تھی جیسا کہ فرماتا ہے وَأَوَيْنَهُما إلى ربوة ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ یعنی ہم نے واقعہ صلیب کے بعد جو ایک بڑی مصیبت تھی عیسی اور اس کی ماں کو ایک بڑے ٹیلہ پر جگہ دی جو بڑے آرام کی جگہ اور پانی خوشگوار تھا یعنی خطہ کشمیر۔اب اگر آپ لوگوں کو عربی سے کچھ بھی مس ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اوی کا لفظ اسی موقعہ پر آتا ہے کہ جب کسی مصیبت پیش آمدہ سے بچا کر پناہ دی جاتی ہے یہی محاورہ تمام قرآن شریف میں اور تمام اقوال عرب میں اور احادیث میں موجود ہے اور خدا تعالیٰ کے کلام سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اپنی تمام عمر میں صرف صلیب کی ہی مصیبت پیش آئی تھی۔اور حدیث سے ثابت ہے کہ مریم کو تمام عمر میں اسی واقعہ سے سخت غم پہنچا تھا۔پس یہ آیت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ اس واقعہ صلیب کے بعد خدا تعالیٰ نے اس آفت سے حضرت عیسی کو نجات دے کر اس موڈی ملک سے کسی دوسرے ملک میں پہنچا دیا تھا جہاں پانی صاف کے چشمے بہتے تھے اور اونچائیلہ تھا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا آسمان پر بھی کوئی چشمہ دار ٹیلہ ہے جس پر خدا تعالیٰ نے واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح کو جا بیٹھایا اور ماں کو بھی۔اور حضرت مسیح کے سوانح میں غور کر کے کوئی نظیر تو پیش کرو کہ کسی مصیبت کے بعد انہیں ایسے ملک میں جگہ دی گئی ہو جو آرام گاہ اور جنت نظیر ہو اور بڑائیلہ ہو تمام دنیا سے بلند۔اور چشمے جاری ہوں۔پس آپ کے خیال کے رُو سے خدا تعالیٰ نعوذ باللہ صریح جھوٹا ٹھہرتا ہے کہ وہ تو صلیب کے بعد هود ۴۴