تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 69

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۹ سورة المؤمنون تُهُم وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ) ۲۸ إصْبَعِ الْفُلْكَ بِاعْيُنِنَا وَ وَحينَا - ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا۔(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ ٹائٹل پیج ) اسی طرح براہین احمدیہ کے قصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ہے وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَبُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں ان کو غرق کروں گا۔خدا نے نوح کے زمانہ میں ظالموں کو قریباً ایک ہزار سال تک مہلت دی تھی اور اب بھی خیر القرون کی تین صدیوں کو علیحدہ رکھ کر ہزار برس ہی ہو جاتا ہے۔اس حساب سے اب یہ زمانہ اس وقت پر آپہنچتا ہے جبکہ نوح کی قوم عذاب سے ملاک کی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا اِصْنَعِ الْفُلْكَ بِاعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ ايديهم یعنی میری آنکھوں کے رو برو اور میرے حکم سے کشتی بنا وہ لوگ جو تجھے بناوہ سے بیعت کرتے ہیں وہ نہ تجھ سے بلکہ خدا سے بیعت کرتے ہیں یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۱۳) اِن هِيَ إِلا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَ مَا نَحْنُ بمبعوثين او ® آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب کا کیا حال تھا۔کوئی بدی ایسی نہ تھی جو ان میں نہ پائی جاتی ہو جیسے کوئی ہر صیغہ اور امتحان کو پاس کر کے کامل استاد ہر فن کا ہوجاتا ہے اسی طرح پر وہ بدیوں اور بدکاریوں میں ماہر اور پورے تھے۔شرابی ، زانی، یتیموں کا مال کھانے والے، قمار باز غرض ہر برائی میں سب سے بڑھے ہوئے تھے بلکہ اپنی بدکاریوں پر فخر کرنے والے تھے۔ان کا قول تھا اِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَ نَحْیا - ہماری زندگی اسی قدر ہے کہ یہاں ہی مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں۔حشر نشر کوئی چیز نہیں۔قیامت کچھ نہیں۔جنت کیا اور جہنم کیا۔اصل میں بہت سے عرب دہریہ تھے جیسا کہ قرآن شریف کی آیت ذیل سے معلوم ہوتا ہے اِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا - الحکم جلد ۶ نمبر ۱۱ مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۳) الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۹ مورخه ۱۸ارجون ۱۹۰۸ صفحہ ۷ )