تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 68

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۸ سورة المؤمنون وجہ یہ ہے کہ وہ دراصل اپنے اکثر زوائد کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم نہیں ہے قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایا تھا اس سے لوگ بے خبر ہیں وہ عرفان جو قرآن نے بخشا تھا اس سے لوگ غافل ہو گئے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اترتا۔انہیں معنوں سے کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا۔پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا جیسا کہ فرمایا ہے لو کان الايمان معلقاً عند الثريا لناله رجل من فارس۔یہ حدیث در حقیقت اسی زمانہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آیت اِنا عَلی ذَهَابِ بِهِ لَقَدِرُونَ میں اشارہ بیان کیا گیا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۸۹ تا ۴۹۳ حاشیه ) مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیشگوئی موجود ہے۔قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس تک مدت ٹھہرائی ہے بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت وَ إِنَّا عَلى ذَهَابِ بِه لَقَدِرُونَ جس کے بحساب جمل ۱۲۷۴ عدد ہیں۔اسلامی چاند کی سطح کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارت چھپی ہوئی ہے جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۶۴) فَقَالَ الْمَلوا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا هَذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُرِيدُ ان يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ وَ لَوْ شَاءَ اللهُ لَاَنْزَلَ مَلَيْكَةٌ مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي ابابنا الأولين۔(۲۵) b مَا سَمِعْنَا بِهذا في ابابنا الأَوَّلِينَ۔۔۔۔ہم نے اپنے بزرگوں میں یعنی اولیاء سلف میں یہ نہیں سنا۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۷۰،۶۶۹ حاشیه در حاشیه ) فَاَوْحَيْنَا إِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحِينَا فَإِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّورُ فَاسْلُكْ فِيهَا مِن كُلّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَ أَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ