تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 69
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۹ سورة النحل ہیں بلا تامل و توقف قبول کر لیں۔اور جو لوگ وحی ولایت عظمی کی روشنی سے منور ہیں اور إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعۃ :۸۰) کے گروہ میں داخل ہیں ان سے بلاشبہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ وقتا فوقتا دقائق مخفیہ قرآن کے ان پر کھولتا رہتا ہے اور یہ بات ان پر ثابت کر دیتا ہے کہ کوئی زائد تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز نہیں دی۔بلکہ احادیث صحیحہ میں مجملات و اشارات قرآن کریم کی تفصیل ہے سو اس معرفت کے پانے سے اعجاز قرآن کریم ان پر کھل جاتا ہے اور نیز ان آیات بینات کی سچائی ان پر روشن ہو جاتی ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے جو قرآن کریم سے کوئی چیز باہر نہیں۔اگر چہ علماء ظاہر بھی ایک قبض کی حالت کے ساتھ ان آیات پر ایمان لاتے ہیں تا ان کی تکذیب لازم نہ آوے۔لیکن وہ کامل یقین اور سکینت اور اطمینان جو ملہم کامل کو بعد معائنہ مطابقت و موافقت احادیث صحیحہ اور قرآن کریم اور بعد معلوم کرنے اس احاطہ نام کے جو در حقیقت قرآن کو تمام احادیث پر ہے ملتی ہے وہ علماء ظاہر کو کسی طرح نہیں مل سکتی۔بلکہ بعض تو قرآن کریم کو ناقص و نا تمام خیال کر بیٹھتے ہیں اور جن غیر محدود صداقتوں اور حقائق اور معارف پر قرآن کریم کے دائگی اور تمام تر اعجاز کی بنیاد ہے اس سے وہ منکر ہیں اور نہ صرف منکر بلکہ اپنے انکار کی وجہ سے ان تمام آیات بینات کو جھٹلاتے ہیں جن میں صاف صاف اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے کہ قرآن جمیع تعلیمات دینیہ کا الحق مباحثہ لد صیانه، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۸۱٬۸۰) جامع ہے!!! اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَايُّ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَرُونَ۔خدا حکم فرماتا ہے کہ تم عدل اور احسان اور ایتاء ذی القربیٰ اپنے اپنے محل پر کرو۔سو جاننا چاہئے کہ انجیل کی تعلیم اس کمال کے مرتبہ سے جس سے نظام عالم مربوط و مضبوط ہے منزل و فروتر ہے۔اور اس تعلیم کو کامل خیال کرنا بھی بھاری غلطی ہے ایسی تعلیم ہر گز کامل نہیں ہو سکتی۔برائین احمدیہ، چہار، صص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۲۶، ۴۲۷ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) خدا کا تمہیں یہ حکم ہے کہ تم اس سے اور اس کی خلقت سے عدل کا معاملہ کرو یعنی حق اللہ اور حق العباد بجالاؤ اور اگر اس سے بڑھ کر ہو سکے تو نہ صرف عدل بلکہ احسان کرو یعنی فرائض سے زیادہ اور ایسے اخلاص سے خدا کی بندگی کرو کہ گویا تم اس کو دیکھتے ہو اور حقوق سے زیادہ لوگوں کے ساتھ مروت وسلوک کرو اور اگر اس سے