تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 67
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۷ سورة النحل میں نے چلنے پھرنے کے قابل اپنے آپ کو پایا اور پھر گھر کے آدمیوں کو لے کر باغ تک چلا گیا اور وہاں دس رکعت اشراق نماز کی ادا کیں۔(البدر جلد ۳ نمبر ۴۴، ۴۵ مورخه ۲۴ نومبر تا یکم دسمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳) وَاللهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَقِّكُمْ وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَم بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ قَدِيرُ ہم بالکل سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ہماری روح جسم کے ادنی ادنی خلل کے وقت بریکار ہو کر بیٹھ جاتی ہے وہ اس روز کیوں کر کامل حالت پر رہے گی جبکہ بالکل جسم کے تعلقات سے محروم کی جائے گی۔کیا ہر روز ہمیں تجربہ نہیں سمجھا تا کہ روح کی صحت کے لئے جسم کی صحت ضروری ہے۔جب ایک شخص ہم میں سے پیر فرتوت ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کی روح بھی بوڑھی ہو جاتی ہے۔اس کا تمام علمی سرمایہ بڑھاپے کا چور چرا کر لے جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے لكن لا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا یعنی انسان بڑھا ہو کر ایسی حالت تک پہنچ جاتا ہے کہ پڑھ پڑھا کر پھر جاہل بن جاتا ہے۔پس ہمارا یہ مشاہدہ اس بات پر کافی دلیل ہے کہ روح بغیر جسم کے کچھ چیز نہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۴) فَلَا تَضْرِبُوا اللَّهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔قرآن شریف۔۔۔۔فرماتا ہے کہ خدا دیکھتا، سنتا، جانتا، بولتا، کلام کرتا ہے۔اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کیلئے یہ بھی فرماتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری : ۱۲)۔فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ - یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔اس کے لئے مخلوق سے مثالیں مت دو۔سوخدا کی ذات کو تشبیہ اور تنزیہ کے بین بین رکھنا یہی وسط ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۶، ۳۷۷) الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ زِدْ نَهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے اور خدا کی راہ سے روکتے ہیں ان پر ہم آخرت کے علاوہ اسی دنیا میں