تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 56

سورة النحل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب لوگ مر چکے ہیں زندہ نہیں ہیں۔اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔پس اس مقام پر غور سے دیکھنا چاہئے کہ یہ آیتیں کس قدر صراحت سے حضرت مسیح اور ان تمام انسانوں کی وفات کو ظاہر کر رہی ہیں جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنے معبود ٹھہراتے تھے۔اور ان سے دعائیں مانگتے تھے۔یاد رکھو یہ خدا کا بیان ہے اور خدا تعالیٰ اس بات سے پاک اور بلند تر ہے کہ خلاف واقعہ باتیں کہے۔پس جس حالت میں وہ صاف اور صریح لفظوں میں فرماتا ہے کہ جس قدر انسان مختلف فرقوں میں پوجاکئے جاتے ہیں اور خدا بنائے گئے ہیں وہ سب مر چکے ہیں ایک بھی ان میں سے زندہ نہیں ہے۔تو پھر کس قدر سرکشی اور نافرمانی اور خدا کے حکم کی مخالفت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ سمجھا جائے۔کیا حضرت عیسی علیہ السلام اُن لوگوں میں سے نہیں ہیں جن کو خدا بنایا گیا ہے یا جن کو اپنی مشکل کشائی کے لئے پکارا جاتا ہے بلکہ وہ ان سب لوگوں سے اول نمبر پر ہیں۔کیونکہ جس اصرار اور غلو کے ساتھ حضرت عیسی کے خدا بنانے کے لئے چالیس کروڑ انسان کوشش کر رہا ہے اس کی نظیر کسی اور فرقہ میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۹۹،۳۹۸) ایک اور آیت ہے جو بڑی صراحت سے حضرت عیسی کی موت پر دلالت کر رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاء یعنی جس قدر باطل معبودوں کی لوگ زمانہ حال میں پرستش کر رہے ہیں وہ سب مر چکے ہیں اُن میں (سے) کوئی زندہ باقی نہیں۔اب بتلاؤ کیا اب بھی کچھ خدا کا خوف پیدا ہوا یا نہیں؟ یا نعوذ باللہ خدا نے غلطی کی جو سب باطل معبودوں کو مردہ قرار دیا۔تحفہ گولڑویه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۱) خدا تعالیٰ ان آیات مندرجہ عنوان میں حضرت مسیح ابن مریم اور ان تمام انسانوں کو جو محض باطل اور ناحق کے طور پر معبود قرار دیئے گئے تھے مار چکا۔در حقیقت یہ ایک ہی دلیل مخلوق پرستوں کی ابطال کے لئے کروڑ دلیل سے بڑھ کر ہے کہ جن بزرگوں یا اور لوگوں کو وہ خدا بنائے بیٹھے ہیں وہ فوت ہو چکے ہیں اور اب وہ فوت شدہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔اگر وہ خدا ہوتے تو ان پر موت وارد نہ ہوتی۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۸۸) ص الَّذِيْنَ تَتَوَقَّهُمُ الْمَلَبِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ فَالْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ بَلَى إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ۔تفسیر معالم کے صفحہ ۱۶۲ میں زیر تفسير آيت يعيسى إلى مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى ( ال عمران : ۵۶) لکھا ہے کہ علی بن طلحہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ رانی ممنحك یعنی