تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 51
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۱ سورة الحجر کا ذکر اس کے لئے لذت بخش اور آرام دہ ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں کہا جاتا ہے اِعْمَلُوا مَا شتم (حم السجدة : ۴۱)۔اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ نواہی کی اجازت ہو جاتی ہے۔نہیں بلکہ وہ خود ہی نہیں کر سکتا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی خصی ہو اور اس کو کہا جاوے کہ تو جو مرضی ہے کر۔وہ کیا کر سکتا ہے اس سے فسق و فجور مراد لینا کمال درجہ کی بے حیائی اور حماقت ہے یہ تو اعلیٰ درجہ کا مقام ہے جہاں کشف حقائق ہوتا ہے۔صوفی کہتے ہیں اس کے کمال پر الہام ہوتا ہے اس کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا ہو جاتی ہے اس وقت اسے یہ حکم ملتا ہے۔پس اثقال عبادت اس سے دور ہو کر عبادت اس کے لئے غذا شیریں کا کام دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ هذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قبل (البقرة :۲۶) فرمایا گیا ہے۔(احکم جلدے نمبر ۳۱ مورخه ۲۴/اگست ۱۹۰۳ صفحه ۳، ۴) اس کی راہ پر چلا جاوے یہاں تک کہ مرجاوے۔وَاعْبُدُ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ کے یہی معنے ہیں وہ موت جب آتی ہے تو ساتھ ہی یقین بھی آجاتا ہے موت اور یقین ایک ہی بات ہے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۸) اگر یقین کی لذت پیدا ہو جائے تو شاید انسان دنیا طلبی کے ارادوں کو خود ترک کر دے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں کہ اس بات کو آزما لیا جائے کہ در حقیقت خدا موجود ہے اور درحقیقت وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔وہ کریم ورحیم ہے۔ان لوگوں کو ضائع نہیں کرتا جو اس کے آستانہ پر گرتے ہیں۔( مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۴۱۴)