تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 30
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰ سورة الحجر ہی کھلتے ہیں ۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۱،۴۵۰) ہر ایک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر ہم قدر ضرورت سے زیادہ اُن کو نازل نہیں کیا کرتے ۔ پس یہ یہ حکمت الہیہ کے برخلاف ہے کہ ایک نبی کو اُمت کی اصلاح کے لئے وہ علوم دئے جائیں جن علوم سے وہ اُمت مناسبت ہی نہیں رکھتی بلکہ حیوانات میں بھی خدا تعالیٰ کا یہی قانون قدرت پایا جاتا ہے۔ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۵، ۱۵۶) انجیل ایک قانون ہے مختص المقام والزمان اور مختص القوم جیسا کہ انگریز بھی قوانین مختص المقام اور مختص الوقت نافذ کر دیتے ہیں بعد از وقت ان کا اثر نہیں رہتا ۔ اسی طرح انجیل بھی ایک مختص قانون ہے عام نہیں ۔ مگر - قرآن کریم کا دامن بہت وسیع ہے وہ قیامت تک ایک ہی لا تبدیل قانون ہے اور ہر قوم اور ہر وقت کے لئے ہے چنانچہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ یعنی ہم اپنے خزانوں میں سے بقدر معلوم نازل کرتے ہیں انجیل کی ضرورت اسی قدر تھی اس لئے انجیل کا خلاصہ ایک صفحہ میں آسکتا ہے لیکن قرآن کریم کی ضرورتیں تھیں سارے زمانہ کی اصلاح ۔ قرآن کا مقصد تھا وحشیانہ حالت سے انسان بنانا۔ انسانی آداب سے مہذب انسان بنانا تا شرعی حدود اور احکام کے ساتھ مرحلہ طے ہو اور پھر با خدا انسان بنانا۔ یہ لفظ مختصر ہیں مگر اس کے ہزار ہا شعبہ ہیں ۔ چونکہ یہودیوں، طبیعیوں ، آتش پرستوں اور مختلف اقوام میں بد روشنی کی روح کام کر رہی تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے با علام الہی سب کو مخاطب کر کے کہا يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا (الاعراف : ۱۵۹ ) ۔ اس لئے ضروری تھا کہ قرآن شریف ان تمام تعلیمات کا جامع ہوتا جو وقتاً فوقتاً جاری رہ چکی تھیں اور ان تمام صداقتوں کو اپنے اندر رکھتا جو آسمان سے مختلف اوقات میں مختلف نبیوں کے ذریعے زمین کے باشندوں کو پہنچائی گئیں تھیں ۔ قرآن کریم کے مد نظر تمام نوع انسان تھا نہ کوئی خاص قوم اور ملک اور زمانہ اور انجیل کا مد نظر ایک خاص قوم تھی اس لئے مسیح علیہ السلام نے بار بار کہا کہ میں اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں آیا ہوں ۔ 66 رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۸۶) وَ لَقَدْ عَلِيْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ ) یعنی ہم ان لوگوں کو جانتے ہیں جو تم میں سے آگے بڑھنے والے ہیں اور جو پیچھے رہنے والے ہیں۔ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۲)