تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 29

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ سورة الحجر لیکن اللہ تعالیٰ کے زبردست ہاتھ نے اسلام کو سنبھالے رکھا۔ یہ بھی ایک دلیل ہے اسلام کی صداقت کی ۔ آج کل کی ترقی بھی اسلام کا ایک معجزہ ہے پس دیکھو کہ مخالفوں نے اپنی ساری طاقتیں اور قوتیں حتی کہ جان اور مال تک بھی اسلام کے نابود کرنے میں صرف کر دیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ یعنی خدا آپ ہی ان نقوش فطرت کو یاد دلانے والا ہے اور خطرہ کے وقت اس کو بچا رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۷) لے گا۔ اس زمانہ میں خدا نے بڑا فضل کیا اور اپنے دین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں غیرت کھا کر ایک انسان کو جو تم میں بول رہا ہے بھیجا تا کہ وہ اس روشنی کی طرف ان کو بلائے ۔ اگر زمانہ میں ایسا فساد اور فتنہ نہ ہوتا اور دین کے محو کرنے کے واسطے جس قسم کی کوششیں ہو رہی ہیں نہ ہوتیں ، تو چنداں حرج نہ تھا۔ مگر اب تم دیکھتے ہو کہ ہر طرف یمین و یسار اسلام ہی کو معدوم کرنے کی فکر میں قو میں لگی ہوئی ہیں۔ مجھے یاد ہے اور براھین احمدیہ میں بھی میں نے ذکر کیا ہے کہ اسلام کے خلاف چھ کروڑ کتا بیں تصنیف اور تالیف ہو کر شائع کی گئی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تعداد بھی چھ کروڑ اور اسلام کے خلاف کتابوں کا شمار بھی اسی قدر ۔ اگر اس زیادہ تعداد کو جواب تک ان تصنیفات میں ہوئی ہے چھوڑ بھی دیا جائے ، تو بھی ہمارے مخالف ایک ایک کتاب ہر ایک مسلمان کے ہاتھ میں دے چکے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا جوش غیرت نہ ہوتا ۔ اور إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ اس کا وعدہ صادق نہ ہوتا تو یقیناً سمجھ لو کہ اسلام آج دنیا سے اُٹھ جاتا اور اس کا نام ونشان تک مٹ جاتا، مگر نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ خدا کا پوشیدہ ہاتھ اس کی حفاظت کر رہا ہے۔ ( رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۷۷، ۷۸) وَ إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ ۔ دنیا کی تمام چیزوں کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر ضرورت و مقتضائے مصلحت و حکمت ہم ان کو اُتارتے ہیں۔ اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوا کہ ہر یک چیز جو دنیا میں پائی جاتی ہے وہ آسمان سے ہی اُتری ہے۔ اس طرح پر کہ ان چیزوں کے علل موجبہ اسی خالق حقیقی کی طرف سے ہیں اور نیز اس طرح پر کہ اُسی کے الہام اور القاء اور سمجھانے اور عقل اور فہم بخشنے سے ہر یک صنعت ظہور میں آتی ہے لیکن زمانہ کی ضرورت سے زیادہ ظہور میں نہیں آتی اور ہر یک مامور من اللہ کو وسعت معلومات بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق دی جاتی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس قرآن کریم کے دقائق و معارف و حقائق بھی زمانہ کی ضرورت کے موافق