تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 28

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸ سورة الحجر گر جاؤں میں چلے گئے اور کھلے طور پر رسول اکرم کی تو ہین ہو رہی ہے۔ ہر ایک قسم کی گالی اور سب وشتم میں ان کو یاد کیا جاتا ہے ۔ ان تمام امور کو بہ ہلیت مجموعی اگر دیکھا جائے تو عقل کہتی ہے کہ یہی وقت خدا کی تائید کا ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۳۱ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۴ ء صفحه (۵) ایک اعتراض یہ پیش کرتے ہو کہ اس امت میں ۳۰ دجال آنے والے ہیں ۔ اے بد قسمتو کیا تمہارے لئے دجال ہی رہ گئے کہ اگر ایک کے آنے سے ایمان کے تباہ ہونے میں کوئی کسر رہ جاوے تو پھر دوسرا، تیسرا اور چوتھا حتی کہ تیس دجال آویں تا کہ ایمان کا نام ونشان نہ رہے۔ اس طرح تو موسیٰ علیہ السلام کی امت ہی اچھی رہی کہ جس میں پے در پے چار سو نبی آیا ۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے وقت تو عورتوں سے بھی خدا نے کلام کیا۔ امت محمدیہ کے مرد بھی اس قابل نہ ہوئے کہ خدا ان سے ہم کلام ہوتا پھر یہ بتلاؤ کہ یہ امت مرحومہ کس طرح ہوئی اس کا نام تو بد نصیب ہونا چاہیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ۱۳ سو برس گزر گئے اور جس قدر فیوض و برکات تھے وہ سب سماع کے حکم میں آگئے اب اگر خدا ان کو تازہ کر کے نہ دکھائے تو صرف قصہ کہانی کے رنگ میں ان کو کون مان سکتا ہے جبکہ تازہ طور پر خدا کی مدد نہیں ۔ نصرت نہیں تو خدا کی حفاظت کیا ہوئی حالانکہ اس کا وعدہ ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ - البدر جلد ۳ نمبر ۳۴، ۳۵، ۳۶ مورخه ۸ تا ۱۶ استمبر ۱۹۰۴ صفحه (۸) یہ اس قرآن کی آیت ہے جس کا حرف حرف محفوظ ہے اور جس کی حفاظت کا ذمہ وار خود اللہ تعالیٰ ہے جب کہ اس نے فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ - الحکم جلد ۸ نمبر ۳۱ مورخه ۷ ارستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۵) علماء کی اگر میرے دعوئی سے پہلے کی کتابیں دیکھی جاتی ہیں تو ان سے کس قدر انتظار اور شوق کا پتہ لگتا ہے گویا وہ تیرھویں صدی کے علامات سے مضطرب اور بے قرار ہو رہے ہیں مگر جب وقت آیا تو اول الکافرین ٹھیرتے ہیں وہ جانتے تھے کہ ہمیشہ کہتے آتے تھے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجد د اصلاح فساد کے لئے آتا ہے اور ایک روحانی طبیب مفاسد موجودہ کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے اب چاہیے تو یہ تھا کہ صدی کا سر پا کر وہ انتظار کرتے ۔ ضرورت کے لحاظ سے ان کو مناسب تھا کہ ایسے مجدد کا انتظار کرتے جو کسرِ صلیب کے لئے آتا کیونکہ اس وقت سب سے بڑا فتنہ یہی ہے ۔۔۔۔ بتاؤ ایسی حالت اور صورت میں اِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ کا وعدہ کہاں گیا ؟ الحکم جلدے نمبرے مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳، ۴) الغرض ایسے فتنے کے وقت میں قریب تھا کہ دشمن اکٹھے ہو کر ایک دفعہ ہی مسلمانوں کو برگشتہ کر دیتے