تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 18
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸ سورة الحجر ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی تعلیم کو تازہ رکھنے والے اور اس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۸) یہ آیت کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ بجز اس کے اور کیا معنی رکھتی ہے کہ قرآن سینوں سے محو نہیں کیا جائے گا جس طرح کہ توریت اور انجیل یہود اور نصاری کے سینوں سے محو کی گئی اور گوتو ریت اور انجیل ان کے ہاتھوں اور ان کے صندوقوں میں تھی لیکن ان کے دلوں سے محو ہو گئی یعنی ان کے دل اس پر قائم ندر ہے اور انہوں نے توریت اور انجیل کو اپنے دلوں میں قائم اور بحال نہ کیا۔ غرض یہ آیت بلند آواز سے پکار حصہ تعلیم قرآن کا بر باد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روز اول سے اس کا پودا دلوں میں جمایا گیا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۱) ہم نے ہی قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۰) فَإِنَّ الْقُرْآنَ كِتَابٌ قَدْ كَفَلَ الله قرآن کریم وہ کتاب ہے جس کی صحت لفظی و معنوی کا صِحتَهُ، وَقَالَ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ الله تعالیٰ نے خود ذمہ لیا ہے اور اس نے فرمایا ہے اِنَّا نَحْنُ لَحْفِظُونَ، وَإِنَّهُ لَا يَتَغَيَّرُ بِتَغِيرَاتِ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ ۔ زمانہ کے تغیرات اور الْأَزْمِنَةِ وَمُرُورِ الْقُرُوْنِ الْكَثِيرَةِ، وَلَا زیادہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اس کتاب میں کوئی تغییر يَنْقُصُ مِنْهُ حَرْفٌ وَلَا تَزِيدُ عَلَيْهِ نُقْطَةٌ، نہیں ہوگا اس سے نہ کوئی حرف کم ہوگا اور نہ اس میں کوئی وَلَا تَمَسُّهُ أَيْدِي الْمَخْلُوقِ، وَلَا يُخَالِطُة نقطہ زیادہ ہوگا ۔ نہ اس میں مخلوق دست برد کر سکے گی اور نہ قَوْلُ الْأَدَمِنِينَ۔ (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ (۲۱۶) وَكَذَلِكَ قَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى لِقَوْمٍ اور اسی طرح طالبان ہدایت کے لئے دوسری آیت يَسْتَرْشِدُونَ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ میں فرمایا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ - لَحٰفِظُونَ فَأَمْعِنُوا فِيْهِ إِنْ كُنْتُمْ تَفَكَّرُونَ پس اس میں غور کرو اگر تم صاحب فکر ہو۔ فَهُذِهِ إِشَارَةٌ إِلَى بَعْثِ مُجَدِدٍ فِي زَمَانِ اس آیت میں ایسے زمانہ میں جو فساد سے پر ہو ایک مُفْسَدٍ كَمَا يَعْلَمُهُ الْعَاقِلُونَ وَلَا مَعْنى مجدد کی بعثت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ ہر عقل مند جانتا اس میں انسانوں کا کلام شامل ہو سکے گا ۔ ( ترجمہ از مرتب )