تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 17
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷ سورة الحجر فَوَقَعَتْ تِلْكَ الْعُلُومُ في قُلُوبِ ہے اور نوجوانوں کے دلوں میں ان علوم نے بڑی وقعت الْأَحْدَاثِ مَوْقِع عَظِيمٍ كَأَنَّهُمْ سُجرُوا حاصل کرلی ہے گویا کہ وہ مسحور ہو گئے ہیں اور اپنی شہوتوں فَجْذِبُوا إِلَى الشَّهَوَاتِ وَاسْتيْفاء اور لذتوں کے پورا کرنے کے لئے کھینچے گئے ہیں اور وہ اللّذَّاتِ وَالْتَحَقُوا بِالْبَهَائِمِ وَالْحَشَرَاتِ بہائم اور حشرات کی مانند ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے وَعَصَوْا رَبَّهُمْ وَأَبَوَيْهِمْ وَأَكَابِرَهُمْ وَ رب اپنے والدین اور اپنے بزرگوں کی نافرمانی کی اور أُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْخَريَّةَ وَ غَلَبَتْ آزادی ان کے دلوں میں گھر کر گئی اور بے باکی اور عَلَيْهِمُ الْخَلاعَةُ وَالْمُجُونُ فَأَرَادَ اللهُ لا ابالی پن ان پر غالب آگیا۔پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا أن يَحْفَظَ عِزَّةَ كِتَابِهِ وَ دِینِ طلابه من کہ وہ اپنی کتاب اور اپنے طالبوں کے دین کی عزت کو ان فِتَنِ تِلْكَ التَّوَادِرِ كَمَا وَعَدَ في قَوْلِهِ : إِنا نو اور کے فتنہ سے محفوظ رکھے جیسا کہ اس نے اپنے قول : انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ فَانّي نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ میں وعدہ کیا تھا پس وَعْدَهُ وَ أَيَّدَ عَبْدَهُ فَضْلًا مِّنْهُ وَ رَحْمَةً وَ اس نے اپنے وعدہ کو پورا فرمایا اور اپنے فضل اور رحمت سے أوْحَى إِلَى أَنْ أَقومَ بِالانْدَارِ وَ اَنْزَلَ مَعنی اپنے بندہ کی تائید فرمائی اور میری طرف وحی کی کہ میں مندر نَوَادِرَ النّعَاتِ وَالْعُلُومِ وَ التَّائِيدَاتِ بن کر کھڑا ہو جاؤں۔اور میرے ساتھ نادر نکات وعلوم اور مِنَ السَّمَاءِ لِيَكْسِتر بها تواید آسمانی تائیدات اتاریں تا اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے عیسائیوں کے نو اور اور ان کی صلیب کو پاش پاش کر دے۔الْمُتَنَظِرِينَ وَصَلِيبَهُم ( ترجمه از مرتب) آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۸۰،۴۷۹) حفاظت قرآن کیوں کر اور کس طرح سے ہوگی سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتا بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اس اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہو گا یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہو گا پھر ان کے آنے کے بعد جو ان سے سرکش رہے گا وہی لوگ بدکار اور فاسق ہیں۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۹) ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے۔اس میں اس بات کی تصریح