تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 17

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷ سورة الحجر فَوَقَعَتْ تِلْكَ الْعُلُومُ في قُلُوبِ ہے اور نوجوانوں کے دلوں میں ان علوم نے بڑی وقعت الْأَحْدَاثِ بِمَوْقِع عَظِيمٍ كَأَنَّهُمْ سُحِرُوا حاصل کر لی ہے گویا کہ وہ مسحور ہو گئے ہیں اور اپنی شہوتوں فَجُنِبُوا إِلَى الشَّهَوَاتِ وَاسْتِيْفَاءِ اور لذتوں کے پورا کرنے کے لئے کھینچے گئے ہیں اور وہ اللَّذَّاتِ وَالْتَحَقُوا بِالْبَهَائِمِ وَالْحَشَرَاتِ بہائم اور حشرات کی مانند ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے وَ عَصَوْا رَبَّهُمْ وَأَبَوَيْهِمْ وَأَكَابِرَهُمْ وَ رب، اپنے والدین اور اپنے بزرگوں کی نافرمانی کی اور أُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحُرِّيَّةَ وَ غَلَبَتْ آزادی ان کے دلوں میں گھر کر گئی اور بے باکی اور عَلَيْهِمُ الْخَلَاعَةُ وَالْمُجُونُ فَأَرَادَ اللهُ لا ابالی پن ان پر غالب آ گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا أَنْ يَحْفَظَ عِزَّةَ كِتَابِهِ وَ دِینِ طلابِه مِن کہ وہ اپنی کتاب اور اپنے طالبوں کے دین کی عزت کو ان فِتَنِ تِلْكَ التَّوَادِرِ كَمَا وَعَدَ فِي قَوْلِهِ : إِنَّا نوادر کے فتنہ سے محفوظ رکھے جیسا کہ اس نے اپنے قول : انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ فَأَنْجَزَ نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ میں وعدہ کیا تھا پس وَعْدَهُ وَأَيَّدَ عَبْدَهُ فَضْلًا مِنْهُ وَ رَحْمَةً وَ اس نے اپنے وعدہ کو پورا فرمایا اور اپنے فضل اور رحمت سے أَوْحَى إِلَى أَنْ أَقُومَ بِالْإِنْذَارِ وَ انْزَلَ مَعِيَ اپنے بندہ کی تائید فرمائی اور میری طرف وحی کی کہ میں مندر نَوَادِرَ النِّكَاتِ وَالْعُلُومِ وَالتَّائِيدَاتِ بن کر کھڑا ہو جاؤں ۔ اور میرے ساتھ نادر نکات و علوم اور مِنَ السَّمَاءِ لِيَكْسِر بِهَا نَوَادِرَ آسمانی تائیدات اتاریں تا اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے عیسائیوں کے نوادر اور ان کی صلیب کو پاش پاش کر دے۔ ( ترجمه از مرتب ) الْمُتَنَصِرِينَ وَصَلِيبَهُمْ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۸۰،۴۷۹) حفاظت قرآن کیوں کر اور کس طرح سے ہوگی سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفہ وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اس اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہو گا یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہوگا پھر ان کے آنے کے بعد جوان سے سرکش رہے گا وہی لوگ بدکار اور فاسق ہیں ۔ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۹) ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے۔ اس میں اس بات کی تصریح