تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 407

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۷ سورة الحج تک ہے اسی کی طرف قرآن شریف اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ ممَّا تَعُدُّونَ۔یعنی خدا کا ایک دن تمہارے ہزار برس کے برابر ہے۔اور خدا تعالیٰ نے میرے دل پر یہ الہام کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک حضرت آدم سے اسی قدر مدت بحساب قمری گزری تھی جو اس سورۃ کے حروف کی تعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتی ہے۔اور اس کے رو سے حضرت آدم سے اب ساتواں ہزار بحساب قمری ہے جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتا ہے اور یہ حساب جوسورۃ والعصر کے حروف کے اعداد کے نکالنے سے معلوم ہوتا ہے۔یہود و نصاری کے حساب سے قریباً تمام و کمال ملتا ہے صرف قمری اور شمسی حساب کو ملحوظ رکھ لینا چاہیے۔اور ان کی کتابوں سے پایا جاتا ہے جو مسیح موعود کا چھٹے ہزار میں آنا ضروری ہے اور کئی برس ہو گئے کہ چھٹا ہزار گزرگیا۔برائین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۴۶ ، ۱۴۷ حاشیه ) خدا نے آدم کو چھٹے دن بروز جمعہ بوقت عصر پیدا کیا۔توریت اور قرآن اور احادیث سے یہی ثابت ہے اور خدا نے انسانوں کے لئے سات دن مقرر کئے ہیں۔اور ان دنوں کے مقابل پر خدا کا ہر ایک دن ہزار سال کا ہے اس کی رو سے استنباط کیا گیا ہے کہ آدم سے عمر دنیا کی سات ہزار سال ہے اور چھٹا ہزار جو چھٹے دن کے مقابل پر ہے وہ آدم ثانی کے ظہور کا دن ہے۔یعنی مقدر یوں ہے کہ چھٹے ہزار کے اندر دینداری کی روح دنیا سے مفقود ہو جائے گی اور لوگ سخت غافل اور بے دین ہو جائیں گے۔تب انسان کے روحانی سلسلہ کو قائم کرنے کے لئے مسیح موعود آئے گا۔اور وہ پہلے آدم کی طرح ہزار ششم کے اخیر میں جو خدا کا چھٹا دن ہے ظاہر ہو گا۔چنانچہ وہ ظاہر ہو چکا اور وہ وہی ہے جو اس وقت اس تحریر کی رو سے تبلیغ حق کر رہا ہے۔میرا نام آدم رکھنے سے اس جگہ یہ مقصود ہے کہ نوع انسان کا فرد کامل آدم سے ہی شروع ہوا اور آدم سے ہی ختم ہوا۔کیونکہ اس عالم کی وضع دوری ہے اور دائرہ کا کمال اسی میں ہے کہ جس نقطہ سے شروع ہوا ہے اُسی نقطہ پر ختم ہو جائے۔پس خاتم الخلفاء کا آدم نام رکھنا ضروری تھا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۲۶۰ حاشیه ) جیسا کہ خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت ہے کہ رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات آتی ہے اور اس قانونِ قدرت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اسی طرح دنیا پر اس قسم کے زمانے آتے رہتے ہیں کہ کبھی روحانی طور پر رات ہوتی ہے اور کبھی طلوع آفتاب ہو کر نیا دن چڑھتا ہے چنانچہ پچھلا ایک ہزار جو گزرا ہے روحانی طور پر