تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 406

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۶ سورة الحج چھ ہزار برس گزر چکے ہیں اور ایک ہزار برس باقی ہیں۔قرآن شریف میں بلکہ اکثر پہلی کتابوں میں بھی یہ نوشتہ موجود ہے کہ وہ آخری مرسل جو آدم کی صورت پر آئے گا اور مسیح کے نام سے پکارا جائے گا ضرور ہے کہ وہ چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا۔یہ تمام نشان ایسے ہیں کہ تدبر کرنے والے کے لئے کافی ہیں۔اور ان سات ہزار برس کی قرآن شریف اور دوسری خدا کی کتابوں کے رو سے تقسیم یہ ہے کہ پہلا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا زمانہ ہے اور دوسرا ہزار شیطان کے تسلط کا زمانہ ہے اور پھر تیسرا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا ( یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سید و مولی ختمی پناہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کیا گیا ہے ) اور پھر چھٹا ہزار شیطان کے کھلنے اور مسلط ہونے کا زمانہ ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد شروع ہوتا اور چودھویں صدی کے سر پر ختم ہو جاتا ہے۔اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں۔اس کے بعد کسی دوسرے مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سات ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں۔اس تقسیم کو تمام انبیاء نے بیان کیا ہے۔کسی نے اجمال کے طور پر اور کسی نے مفصل طور پر۔(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۸۴ تا ۱۸۶) قرآن شریف سے بھی صاف طور پر یہی نکلتا ہے کہ آدم سے اخیر تک عمر بنی آدم کی سات ہزار سال ہے اور ایسا ہی پہلی تمام کتابیں بھی باتفاق یہی کہتی ہیں اور آیت اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبَّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تعدون سے بھی یہی نکلتا ہے اور تمام نبی واضح طور پر بھی خبر دیتے آئے ہیں اور جیسا کہ میں بھی بیان کر چکا ہوں سورۃ والعصر کے اعداد سے بھی یہی صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آدم سے الف پنجم میں ظاہر ہوئے تھے اور اس حساب سے یہ زمانہ جس میں ہم ہیں ہزار ہفتم ہے۔جس بات کو خدا نے اپنی وحی سے ہم پر ظاہر کیا اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے اور نہ ہم کوئی وجہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے پاک نبیوں کے متفق علیہ کلمہ سے انکار کریں۔پھر جبکہ اس قدر ثبوت موجود ہے اور بلاشبہ احادیث اور قرآن شریف کے رو سے یہ آخری زمانہ ہے۔پھر آخری ہزار ہونے میں کیا شک رہا اور آخری ہزار کے سر پر مسیح موعود کا آنا ضروری ہے۔لیکھر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۰،۲۰۹) کتب سابقہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ عمر دنیا کی حضرت آدم علیہ السلام سے سات ہزار برس