تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 405
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۵ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ تمہارا ہزار سال خدا کا ایک دن ہے۔سورة الحج (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۲ حاشیه ) ایک دن خدا کا ایسا ہے جیسا تمہارا ہزار برس ہے۔پس چونکہ دن سات ہیں اس لئے اس آیت میں دنیا کی عمر سات ہزار برس قرار دی گئی ہے۔لیکن یہ عمر اس آدم کے زمانہ سے ہے جس کی ہم اولاد ہیں۔خدا کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا تھی۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ کہ وہ لوگ کون تھے اور کس قسم کے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ سات ہزار برس میں دنیا کا ایک دور ختم ہوتا ہے۔اسی وجہ سے اور اس امر پرنشان قرار دینے کے لئے دنیا میں سات دن مقرر کئے گئے تاہر ایک دن ایک ہزار برس پر دلالت کرے۔ہمیں معلوم نہیں کہ دنیا پر اس طرح سے کتنے دور گزر چکے ہیں اور کتنے آدم اپنے اپنے وقت میں آچکے ہیں۔چونکہ خدا قدیم سے خالق ہے اس لئے ہم مانتے اور ایمان لاتے ہیں کہ دنیا اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم ہے۔لیکن اپنے شخص کے اعتبار سے قدیم نہیں ہے۔افسوس کے حضرات عیسائیاں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف چھ ہزار برس ہوئے کہ جب خدا نے دنیا کو پیدا کیا اور زمین و آسمان بنائے اور اس سے پہلے خدا ہمیشہ کے لئے معطل اور بے کا رتھا اور از لی طور پر معطل چلا آتا تھا۔یہ ایسا عقیدہ ہے کہ کوئی صاحب عقل اس کو قبول نہیں کرے گا۔مگر ہمارا عقیدہ جو قرآن شریف نے ہمیں سکھلایا ہے یہ ہے کہ خدا ہمیشہ سے خالق ہے اگر چاہے تو کروڑوں مرتبہ زمین و آسمان کو فنا کر کے پھر ایسے ہی بنا دے اور اُس نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ آدم جو پہلی امتوں کے بعد آیا جو ہم سب کا باپ تھا اس کے دنیا میں آنے کے وقت سے یہ سلسلہ انسانی شروع ہوا ہے۔اور اس سلسلہ کی عمر کا پورا دور سات ہزار برس تک ہے۔یہ سات ہزار خدا کے نزدیک ایسے ہیں جیسے انسانوں کے سات دن۔یادر ہے کہ قانون الہی نے مقرر کیا ہے کہ ہر ایک امت کے لئے سات ہزار برس کا دور ہوتا ہے۔اسی دور کی طرف اشارہ کرنے کے لئے انسانوں میں سات دن مقرر کئے گئے ہیں۔غرض بنی آدم کی عمر کا دور سات ہزار برس مقرر ہے۔اور اس میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پانچ ہزار برس کے قریب گزر چکا تھا۔یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ خدا کے دنوں میں سے پانچ دن کے قریب گزر چکے تھے جیسا کہ سورۃ والعصر میں یعنی اس کے حروف میں ابجد کے لحاظ سے قرآن شریف میں اشارہ فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جب وہ سورۃ نازل ہوئی تب آدم کے زمانہ پر اسی قدر مدت گزر چکی تھی جو سورہ موصوفہ کے عددوں سے ظاہر ہے۔اس حساب سے انسانی نوع کی عمر میں سے اب اس زمانہ میں