تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 404

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۴ ہے سو وہ یہی ہے جو پیدا ہو گیا۔فالحمد لله على ذلك۔سورة الحج (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷۶،۴۷۵) قمری حساب کے رُو سے جو اصل حساب اہل کتاب کا ہے میری ولادت چھٹے ہزار کے آخر میں تھی اور چھٹے ہزار کے آخر میں مسیح موعود کا پیدا ہونا ابتدا سے ارادہ الہی میں مقر رتھا۔کیونکہ مسیح موعودخاتم الخلفاء ہے اور آخر کو اوّل سے مناسبت چاہئے۔اور چونکہ حضرت آدم بھی چھٹے دن کے آخر میں پیدا کئے گئے ہیں اس لئے بلحاظ مناسبت ضروری تھا کہ آخری خلیفہ جو آخری آدم ہے وہ بھی چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو۔وجہ یہ کہ خدا کے سات دنوں میں سے ہر ایک دن ہزار برس کے برابر ہے جیسا کہ خود وہ فرماتا ہے اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ۔اور احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا ہوگا۔اسی لئے تمام اہل کشف مسیح موعود کا زمانہ قرار دینے میں چھٹے ہزار برس سے باہر نہیں گئے اور زیادہ سے زیادہ اُس کے ظہور کا وقت چودھویں صدی ہجری لکھا ہے۔اور اہل اسلام کے اہل کشف نے مسیح موعود کو جو آخری خلیفہ اور خاتم الخلفاء ہے صرف اس بات میں ہی آدم سے مشابہ قرار نہیں دیا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا اور مسیح موعود چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہوگا بلکہ اس بات میں بھی مشابہ قرار دیا ہے کہ آدم کی طرح وہ بھی جمعہ کے دن پیدا ہوگا اور اس کی پیدائش بھی تو ام کے طور پر ہوگی یعنی جیسا کہ آدم تو ام کے طور پر پیدا ہوا تھا پہلے آدم اور بعد میں حوا۔ایسا ہی مسیح موعود بھی تو ام کے طور پر پیدا ہوگا۔سو الحمد لله والمنہ کہ متصوفین کی اس پیشگوئی کا میں مصداق ہوں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۰۹،۲۰۸) ایک دن خدا کے نزدیک تمہارے ہزار سال کے برابر ہے۔پس جبکہ خدا تعالیٰ کی کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ دن سات ہیں۔پس اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ انسانی نسل کی عمر سات ہزار سال ہے جیسا کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ سورۃ العصر کے عدد جس قدر حساب جمل کی رو سے معلوم ہوتے ہیں اسی قدر زمانہ نسل انسان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک بحساب قمری گزر چکا تھا کیونکہ خدا نے حساب قمری رکھا ہے اور اس حساب سے ہماری اس وقت تک نسل انسان کی عمر چھ ہزار برس تک ختم ہو چکی ہے اور اب ہم ساتویں ہزار میں ہیں اور یہ ضرور تھا کہ مثیل آدم جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہتے ہیں چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جو جمعہ کے دن کے قائم مقام ہے جس میں آدم پیدا ہوا۔اور ایسا ہی خدا نے مجھے پیدا کیا۔پس اس کے مطابق چھٹے ہزار میں میری پیدائش ہوئی۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۵۸،۴۵۷)