تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 403

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۳ سورة الحج پیدا ہوئے یہی سنتِ مستمرہ ہے کہ وہ مدد کرنے والوں کی مدد کرتا ہے۔یوں کیوں کر کہا جائے کہ پہلے تو نہیں مگر آئندہ کسی نامعلوم زمانہ میں اس قاعدہ کا پابند ہو جائے گا اور اب تک تو صرف وعدہ ہی ہے عمل درآمد نہیں 11 99 و، سُبْحْنَةُ هذَا بُهْتَان عَظِيمٌ - الحق مباحثہ دہلی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۴) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٌّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللہ یعنی وے مظلوم جو اپنے وطنوں سے بے گناہ نکالے گئے صرف اس بات پر کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۶۳) ط وَ يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ يُخْلِفَ اللهُ وَعْدَهُ وَ إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ اس وقت مثیل مسیح کی سخت ضرورت تھی اور نیز اُن ملائک کی جو زندہ کرنے کے لئے اترا کرتے ہیں سخت حاجت تھی کیونکہ روحانی موت اور غفلت ایک عالم پر طاری ہوگئی ہے اور اللہ جل شانہ کی محبت ٹھنڈی ہوگئی اور سخت دلی اور دنیا پرستی پھیل گئی اور وہ تمام وجوہ پیدا ہو گئے جن کی وجہ سے توریت کی تائید میں مسیح ابن مریم دنیا میں آیا تھا۔اور دقبال نے بھی بڑے زور کے ساتھ خروج کیا اور حضرت آدم کی پیدائش کے حساب سے الف ششم کا آخری حصہ آ گیا جو بموجب آيت إِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ چھٹے دن کے قائم مقام ہے۔سوضرور تھا کہ اس چھٹے دن میں آدم پیدا ہوتا جو اپنی روحانی پیدائش کی رُو سے مثیل مسیح ہے اس لئے خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل مسیح اور نیز آدم الف ششم کر کے بھیجا۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۴۲، ۳۴۳) اس عاجز کو جو خدائے تعالیٰ نے آدم مقرر کر کے بھیجا اس کا یہ نشان رکھا کہ الف ششم میں جو قائم مقام روز ششم ہے یعنی آخری حصہ الف میں جو وقت عصر سے مشابہ ہے اس عاجز کو پیدا کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے انّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ۔اور ضرور تھا کہ وہ ابن مریم جس کا انجیل اور فرقان میں آدم بھی نام رکھا گیا ہے وہ آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں ظہور کرتا۔سو آدم اول کی پیدائش سے الف ششم میں ظاہر ہونے والا یہی عاجز ہے۔بہت سی حدیثوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے اور آخری آدم پہلے آدم کی طرز ظہور پر الف ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے پیدا ہونے والا