تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 402

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۲ سورة الحج الْجَانِبَيْنِ قَتْلَى، وَكَانَ الْكُفَّارُ ظَالِمِينَ جاتے تھے بلکہ جانبین سے مرنے والے کام آتے ضالين (نور الحق ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۶۴ ، ۶۵) تھے اور کفار ظالم اور حملہ آور تھے۔( ترجمہ از اصل کتاب سے ) وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوتَ وَمَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا، یعنی اگر خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہ ہوتی کہ بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرتا تو ظلم کی نوبت یہاں تک پہنچتی کہ گوشہ گزینوں کے خلوت خانے ڈھائے جاتے اور عیسائیوں کے گرجے مسمار کئے جاتے اور یہودیوں کے معبد نابود کئے جاتے اور مسلمانوں کی مسجد میں جہاں کثرت سے ذکر خدا ہوتا ہے منہدم کی جاتیں۔اس جگہ خدا تعالیٰ یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ان تمام عبادت خانوں کا میں ہی حامی ہوں اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلاً کسی عیسائی ملک پر قبضہ کرے تو ان کے عبادت خانوں سے کچھ تعرض نہ کرے اور منع کر دے کہ ان کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ کوئی اسلامی سپہ سالار کسی قوم کے مقابلہ کے لئے مامور ہوتا تھا تو اس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور فقراء کے خلوت خانوں سے تعرض نہ کرے۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصب کے طریقوں سے دور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گر جاؤں اور یہودیوں کے۔معبدوں کا ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے۔ہاں البتہ اس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دے دیا ہے۔(چشمہ معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۹۳، ۳۹۴) یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے وطنوں سے ناحق نکالے گئے اور ان کا گناہ بجز اس کے اور کوئی نہ تھا جو ہمارا رب اللہ ہے۔۔۔۔۔اگر اللہ تعالی بعض کے شر کو بعض کی تائید کے ساتھ دفع نہ کرتا تو زمین فاسد ہو جاتی۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۵) وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ یعنی وہ جو خدا تعالیٰ کی مدد کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے۔اب حضرت دیکھئے آیت کے لفظ لينصرن کے آخر میں نون ثقیلہ ہے لیکن اگر اس آیت کے یہ معنے کریں کہ آئندہ کسی زمانہ میں اگر کوئی ہماری مدد کرے گا تو ہم اس کی مدد کریں گے تو یہ معنے بالکل فاسد اور خلاف سنت مستمر و البہیہ ٹھہریں گے کیونکہ اللہ جل شانہ کے قدیم سے اور اسی زمانہ سے کہ جب بنی آدم