تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 401
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ سورة الحج فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اس کو حکم دیا تاوہ مدینہ بھاگ جائے سو آنحضرت اپنے مِنْ وَطَنِهِ بِإِخْرَاجِ قَوْمِهِ۔وَمَعَ ذَلِكَ مَا وطن سے کفار کے نکالنے سے ہجرت کر گئے اور ابھی کفار نے كَانَ الْكُفَّارُ مُنْتَهِينَ بَلْ لَّمْ يَزَلِ الْفِتَنِ ایذا رسانی میں بس نہیں کی تھی بلکہ وہ فتنے بھڑکاتے اور مِنْهُمْ تَسْتَعِيُّ، وَمَحْجَةُ الدّعْوَةِ تُعِيُّ، حَتَّى دعوت کے کاموں میں مشکلات ڈالتے یہاں تک کہ جَلَبُوْا عَلى رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر معہ اپنے سواروں اور پیادوں وَسَلَّمَ خَيْلَهُمْ وَرّجِلهُمْ وَضَرَبُوا کے چڑھائی کی اور بدر کے میدان میں جو مدینہ سے قریب خِيَامَهُمْ فِي مَيَادِيْنِ بَدْرٍ بِقَوْج گھیر ہے اپنی فوج کے خیمے کھڑے کر دیئے اور چاہا کہ دین کی قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، وَأَرَادُوا اسْتيْصَالَ بیخ کنی کر دیں تب خدا کا غضب ان پر بھٹڑ کا اور اس نے الدِّينِ فَاشْتَعَلَ غَضَبُ اللهِ عَلَيْهِمْ ان کے بڑے ظلم اور تختی کے ساتھ حد سے تجاوز کرنا مشاہدہ وَرَاى قُبْحَ جَفَائِهِمْ وَشِدَّةَ اعْتِدَائِهِمْ ، کیا سو اس نے اپنی وحی اپنے رسول پر اتاری اور کہا کہ فَنَزَلَ الْوَحْى عَلَى رَسُولِهِ وَقَالَ أَذِنَ مسلمانوں کو خدا نے دیکھا جو ناحق ان کے قتل کے لئے لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمُ ظلِمُوا وَ اِنَّ اللهَ ارادہ کیا گیا ہے اور وہ مظلوم ہیں اس لئے انہیں مقابلہ کی عَلى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ، فَأَمَرَ اللهُ رَسُولَهُ اجازت ہے اور خدا قادر ہے جو ان کی مدد کرے سو خدا الْمَظْلُوْمَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لِيُعَارِبَ الَّذِينَ تعالی نے اپنے رسول مظلوم کو اس آیت میں ان لوگوں هُمْ بَدَأَوُا أَوَّلَ مَرَّةٍ بَعْدَ أَنْ رَأى شِدَّةَ کے مقابل پر ہتھیار اٹھانے کی اجازت دی جن کی طرف اعْتِدَائِهِمْ وَكَمَالَ حِقْدِهِمْ وَضَلَالِهِمْ سے ابتدا تھی مگر اس وقت اجازت دی جبکہ انتہا درجہ کی وَرَأَى أَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يُوجی بِالْمَوَاعِظ زیادتی اور گمراہی ان کی طرف سے دیکھ لی اور یہ دیکھ لیا کہ صَلاحُ أَحْوَالِهِمْ فَانْظُرُ كَيْفَ كَانَ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ میجر د نصیحتوں سے ان کی اصلاح غیر حَرب رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ممکن ہے پس اب سوچو کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وَمَا حَارَبَ نَبِيُّ اللهِ أَعْدَاءَ الدِّيْنِ إِلَّا بَعْدَ لڑائیوں کی کیا حقیقت تھی اور نبی اللہ دشمنان دین سے مَا رَاهُمْ سَابِقِين في التَّرَامِ بِالسّهامِ ہرگز نہیں لڑامگر جب تک کہ اس نے یہ نہ دیکھ لیا کہ وہ تیر وَالتَّجَالُ بِالْحُسَامِ، وَمَا كَانَ الْكُفَّارُ چلانے اور تلوار مارنے میں پیش دست اور سبقت کرنے مَفْتُولِيْنِ فَقَط بَلْ كَانَ يَسْقُط من والے ہیں اور نیز یہ تو نہیں تھا کہ صرف کفار ہی مارے