تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 400

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۰ سورة الحج میں یقیناً کہتا ہوں کہ اسلام کا غلبہ ہوکر رہے گا اور اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ہاں یہ سچی بات ہے کہ اس غلبہ کے لئے کسی تلوار اور بندوق کی حاجت نہیں اور نہ خدا نے مجھے ہتھیاروں کے ساتھ بھیجا ہے۔جو شخص اس وقت یہ خیال کرے وہ اسلام کا نادان دوست ہوگا۔مذہب کی غرض دلوں کو فتح کرنا ہوتی ہے اور یہ غرض تلوار سے حاصل نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تلوار اُٹھائی میں بہت مرتبہ ظاہر کر چکا ہوں کہ وہ تلوار محض حفاظت خود اختیاری اور دفاع کے طور پر تھی۔اور وہ بھی اس وقت جبکہ مخالفین اور منکرین کے مظالم حد سے گزر گئے اور بیکس مسلمانوں کے خون سے زمین سرخ ہو چکی۔الحاکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۳۰ / نومبر ۱۹۰۶ صفحه ۵) وَقَد بَيَّنَّا لَكَ أَنَّ الْحَرْبَ لَيْسَ مِنْ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ لڑائی اور جہاد اصل مقاصد أَصْلِ مَقَاصِدِ الْقُرْآنِ وَلَا مِنْ جَذْرٍ قرآن میں سے نہیں اور وہ صرف ضرورت کے وقت تجویز تَعْلِيمِهِ، وَإِنَّمَا هُوَ جَوزَ عِنْدَ اشْتِدَادِ کیا گیا ہے یعنی ایسے وقت میں جبکہ ظالموں کا ظلم انتہا الْحَاجَةِ وَبُلُوغِ ظُلْمِ الظَّالِمِينَ إِلَى انْتِهَائِهِ تک پہنچ جائے اور پیروی کرنے کے لئے طریق عمل وَاشْتِعَالِ جَوْرِ الْجَائِرِينَ وَ لَكُمْ أُسْوَةٌ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہتر ہے دیکھو کس طرح حَسَنَةٌ في غَزَوَاتٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ایذا پر اس زمانہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ صَبَرَ عَلى ظُلْمٍ تک صبر کیا جس میں ایک بچہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جاتا الْكُفَّارِ إِلى مُدَّةٍ يَبْلُغُ فِيْهِ صَبِى إِلى سِن ہے اور کافر لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ دیکھ بُلُوغِهِ، فَصَبَرَ وَكَانَ الْكُفَّارُ يُؤْذُونَهُ في دیتے اور رات دن ستاتے اور شریروں کی طرح ان کے اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ يَنْهَبُونَ أَمْوَالَ الْمُؤْمِنِينَ مالوں کو لوٹتے اور مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں کو قتل كَالْأَشْرَارِ، وَيَقْتُلُونَ رِجَالَهُمْ وَنِسَاءَ هُمُ کرتے اور ایسے بڑے بڑے عذابوں سے مارتے کہ ان بِتَعْذِيبَاتٍ تَتَعَلَّمُ بِتَصَوُّرِهَا دُمُوعُ کے یاد کرنے سے آنکھوں کے آنسو جاری ہوتے ہیں الْعُيُونِ وَتَقْشَعِرُ قُلُوبُ الْأَخْيَارِ اور نیک آدمیوں کے دل کا نچتے ہیں اور اسی طرح دکھ وَكَذَلِكَ بَلَغَ الْإِيْنَا إِلَى انْعِبَائِهِ حَتَّى هَموا انتہا کو پہنچ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن يقَتُل نَي الله فَأَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يَتْرُكَ وَطَنَه سے نکالے گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آنحضرت وَيَبْرُبَ إِلَى الْمَدِينَةِ مُهَاجِرًا مِنْ مَّكَّةَ صلى اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا قصد کیا سو اس کے رب