تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 396

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۶ سورة الحج پس یہ اعتراض محض فضول اور لغو ہے کہ وہ لڑائیاں مذہب کے لئے تھیں اگر محض مذہب کے لئے ہوتیں تو جزیہ دینے کی صورت میں ان کو کیوں چھوڑا جاتا۔پھر میں کہتا ہوں کہ عیسائی تو اس قسم کا اعتراض کر ہی نہیں سکتے۔وہ اپنے گھر میں دیکھیں کہ اسلامی لڑائیاں موسوی لڑائیوں سے زیادہ ہیں ؟ اور جبکہ وہ حضرت عیسی کو موسیٰ علیہ السلام کا بھی (معاذ اللہ ) خدا مانتے ہیں تو پھر ان لڑائیوں کا الزام عیسائیوں پر بدستور قائم ہے خصوصاً ایسی حالت میں کہ وہ لڑائیاں اسلامی جنگوں سے زیادہ سخت اور خون ریز تھیں۔اسلامی لڑائیوں میں بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا لحاظ کیا جاتا تھا اور ان کو قتل نہیں کیا جاتا تھا مگر موسوی لڑائیوں میں تو ان امور کی پرواہ نہیں کی جاتی تھی۔ایسا ہی اسلامی جنگوں میں مذہبی عبادت گاہوں اور پھلدار درختوں کو بھی ضائع نہیں کیا جاتا تھا مگر موسوی لڑائیوں میں پھلدار درخت تباہ کر دیئے جاتے۔غرض اسلامی جنگ موسوی لڑائیوں کے مقابلہ میں کچھ چیز ہی نہیں۔احکام جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مذہب کے لئے تلوار نہیں اُٹھائی بلکہ اتمام حجت کے بعد جس طرح پر خدا نے چاہا منکروں کو عذاب دیا۔وہ جنگیں دفاعی تھیں۔تیرہ برس تک آپ ستائے جاتے رہے۔اور صحابہ نے جانیں دیں۔انہوں نے نشان پر نشان دیکھے اور انکار کرتے رہے۔آخر خدا تعالیٰ نے ان جنگوں کی صورت میں عذاب سے ہلاک کیا۔الحکم جلدے نمبر ۷ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۸) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ظالم لوگ اسلام پر تلوار کے ساتھ حملے کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے نابود کر دیں۔سو جنہوں نے تلواریں اُٹھا ئیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے گئے سودہ جنگ صرف دفاعی جنگ تھی۔بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخہ ۹ رمئی ۱۹۰۷ صفحه ۶) ہمارے نبی کریم صلعم نے لڑائیوں کے لئے سبقت نہیں کی تھی بلکہ ان لوگوں نے خود سبقت کی تھی۔خون کئے۔ایذائیں دیں۔تیرہ برس تک طرح طرح کے دکھ دیئے۔آخر جب صحابہ کرام سخت مظلوم ہو گئے۔تب اللہ تعالیٰ نے بدلہ لینے کی اجازت دی جیسے فرما یا أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا - وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَکم اس زمانہ کے لوگ نہایت وحشی اور درندے تھے خون کرتے تھے جنگ کرتے تھے۔طرح طرح کے ظلم اور دکھ دیتے تھے۔ڈاکوؤں اور لٹیروں کی طرح مار دھاڑ کرتے پھرتے تھے اور ناحق کی ایذا دہی اور خون ریزی پر کمر باندھے ہوئے تھے۔خدا نے فیصلہ کر دیا کہ ایسے ظالموں کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور یہ ظلم نہیں بلکہ عین حق اور انصاف ہے۔