تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 395

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۵ سورة الحج مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں ہے۔لڑائیوں کی اصل جڑ کیا تھی۔اس کے سمجھنے میں ان لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔اگر لڑائی کا ہی حکم تھا تو تیرہ برس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو پھر ضائع ہی گئے کہ آپ نے آتے ہی تلوار نہ اُٹھائی۔صرف لڑنے والوں کے ساتھ لڑائیوں کا حکم ہے۔اسلام کا یہ اصول کبھی نہیں ہوا کہ خود ابتداء جنگ کریں۔لڑائی کا سبب کیا تھا؟ اسے خود خدا نے بتلایا ہے کہ ظلِمُوا۔خدا نے جب دیکھا کہ یہ لوگ مظلوم ہیں تو اب اجازت دیتا ہے کہ تم بھی لڑو۔یہ نہیں حکم دیا کہ اب وقت تلوار کا ہے تم زبر دستی تلوار کے ذریعہ لوگوں کو مسلمان کرو بلکہ یہ کہا کہ تم مظلوم ہو اب مقابلہ کرو۔مظلوم کو تو ہر ایک قانون اجازت دیتا ہے کہ حفظ جان کے واسطے مقابلہ کرے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۲۳ تا ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۳) خوب سمجھ لو کہ اب مذہبی لڑائیوں کا زمانہ نہیں اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جو لڑائیاں ہوئی تھیں اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ جبر مسلمان بنانا چاہتے تھے بلکہ وہ لڑائیاں بھی دفاع کے طور پر تھیں۔جب مسلمانوں کو سخت دکھ دیا گیا اور مکہ سے نکال دیا گیا اور بہت سے مسلمان شہید ہو چکے تب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اسی رنگ میں ان کا مقابلہ کروپس وہ حفاظت خود اختیاری کے رنگ میں لڑائیاں کرنی پڑیں۔الحام جلد 4 نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵، صفحه ۹) ۹ “ اسلامی جہاد پر یہ اعتراض تو محض فضول ہے کہ وہ لڑائیاں مذہب اور اشاعت اسلام کی خاطر تھیں۔اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال تک مکہ میں کفار کے ہاتھوں سے سخت تکلیف اٹھاتے رہے اور آپ کے جاں نثار صحابہ نے دکھ اُٹھائے اور جانیں دیں۔بعض غریب اور بیکس ضعیف عورتوں کو شرمناک تکالیف کفار نے پہنچائیں یہاں تک کہ آخر آپ کو ہجرت کرنی پڑی اور ان کفار نے وہاں بھی آپ کا تعاقب کیا ایسی صورت میں جب ان کی شرارتیں اور تکلیفیں حد سے گزر گئیں تو پھر خدا تعالیٰ نے سدِ باب اور دفاع کے طور پر حکم دیا کہ ان سے جنگ کرو۔چنانچہ پہلی آیت جس میں جہاد کا حکم ہوا وہ یہ ہے أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۔۔۔۔۔الآية یعنی ان لوگوں کو اجازت دی گئی کہ وہ جنگ کریں جن پر ظلم ہوا ہے۔مسلمان مظلوم تھے ان کی طرف سے ابتداء نہیں ہوئی تھی بلکہ بانی فساد کفار مکہ تھے ایسی حالت میں بھی جب ان کی شرارتیں انتہائی درجہ تک جا پہنچیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدافعت کے واسطے مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔