تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 385

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۵ سورة الحج اور صدق کو نہیں چھوڑا بلکہ اپنے بزرگ اور پاک نبی کی رفاقت میں وہ صدق دکھلایا کہ کبھی انسان میں وہ صدق نہیں آسکتا جب تک ایمان سے اس کا دل اور سینہ منور نہ ہو۔غرض اسلام میں جبر کو دخل نہیں۔اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں، (۱) دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خود اختیاری۔(۲) بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون۔(۳) بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرناسراسر لغو اور بیہودہ ہے۔کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے۔مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۲،۱۱) میں اللہ تعالیٰ کی قسم سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان بنانے کے لئے کبھی جبر نہیں کیا اور نہ تلوار کھینچی اور نہ دین میں داخل کرنے کے لئے کسی کے ایک بال کو بھی نقصان پہنچا یا۔بلکہ وہ تمام نبوی لڑائیاں اور آنجناب کے صحابہ کرام کے جنگ جو اس وقت کئے گئے یا تو اس واسطے ان کی ضرورت پڑی کہ تا اپنی حفاظت کی جائے اور یا اس لئے ضرورت پڑی کہ تا ملک میں امن قائم کیا جائے اور جولوگ اسلام کو اس کے پھیلنے سے روکتے ہیں اور اُن لوگوں کو قتل کر دیتے ہیں جو مسلمان ہوں ان کو کمزور کر دیا جائے جب تک کہ وہ اس نالائق طریق سے تو بہ کر کے اسلام کی سلطنت کے مطیع ہو جائیں۔پس ایسے جنگ کا اُس زمانہ میں کہاں پتہ ملتا ہے جو جبراً مسلمان بنانے کے لئے کی جاتی ہے۔ہاں رحمت الہی نے قابل سزا قوموں کے لئے جو بہت سے خون کر چکی تھیں اور خونیوں کو مدد دے چکی تھیں اور اپنے جرائم کی وجہ سے عدالت کے رُو سے قتل کے لائق تھیں رحیما نہ طور پر یہ رعایت رکھی تھی کہ ایسے مجرم اگر سچے دل سے مسلمان ہو جا ئیں تو ان کا وہ سنگین جرم معاف کر دیا جائے اور ایسے مجرموں کو اختیار ملا تھا کہ اگر چاہیں تو اس رحیمانہ قانون سے فائدہ اُٹھائیں۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۴۶) چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھوڑے تھے اس لئے اُن کے مخالفوں نے باعث اس تکبر کے جو فطرتاً ایسے فرقوں کے دل اور دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے جو اپنے تئیں دولت میں ، مال میں ، کثرت جماعت میں عزت میں، مرتبت میں دوسرے فرقہ سے برتر خیال کرتے ہیں اُس وقت کے مسلمانوں یعنی صحابہ سے سخت دشمنی کا برتاؤ کیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آسمانی پودہ زمین پر قائم ہو بلکہ وہ ان راستبازوں