تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 370
٣٧٠ دوو تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحج نہیں پہنچاتا اور تنگسهُ في الخَلق کا مصداق نہیں ٹھہراتا پس جبکہ یہ عقیدہ ہمارے آقا و مولیٰ کی عام تعلیم سے صریح مخالف ہے تو صاف ظاہر ہے کہ جو شخص اس کا مدعی ہو ثبوت اس کے ذمہ ہے۔غرض حسب تعلیم قرآنی عمر طبعی کے اندر اندر مر جانا اور زمانہ کے اثر سے عمر کے مختلف حصوں میں گونا گوں تغیرات کا لحاظ ہونا یہاں تک کہ بشرط زندگی ارذل عمر تک پہنچنا یہ ایک فطرتی اور اصلی امر ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہے جس کے بیان میں قرآن کریم بھرا ہوا ہے الحق دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۰) آیت وَ مِنْكُمْ مَنْ يُتَوَى وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى ارْذَلِ الْعُمُرِ سے حضرت عیسی کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ قرآن شریف میں باوجود تکرار مضمون اس آیت کے یہ فقرہ کہیں نہیں آیا کہ مِنْكُمْ مَنْ صَعَدَ إِلَى السَّمَاءِ بِسْمِهِ الْعُنْصُرِي ثُمَّ يَرْجِعُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ یعنی تم میں سے ایک وہ بھی ہے جو جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور پھر آخری زمانہ میں دنیا میں واپس آئے گا۔پس اگر یہ سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسم عنصری آسمان پر چلے گئے ) تو قرآن شریف کی یہ حصر نا تمام رہے گی کیونکہ آسمان پر چڑھنے کی نسبت خدا نے اس آیت یا کسی دوسری آیت میں ذکر نہیں کیا اور اگر در حقیقت خدا کی یہ بھی سنت تھی تو تکمیل بیان کے لئے اس کا ذکر کرنا ضروری تھا اور جبکہ کئی دفعہ قرآن شریف میں جوان یا بوڑھا کر کے مارنے کا ذکر آ چکا ہے تو اس کے ساتھ اس عادت اللہ کا بیان نہ کرنا کہ کسی کو آسمان پر آباد بھی کیا جاتا ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی کو مع جسم آسمان پر آباد کر دینا خدا تعالیٰ کی سنتوں میں سے نہیں ہے۔(ایاما الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۶،۳۸۵) وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ ، فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرُ إِطْمَانَ بِهِ ۚ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةُ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ دو المبين قبولیت دعا حق ہے لیکن دعانے کبھی سلسلہ موت فوت کو بند نہیں کر دیا۔تمام انبیاء کے زمانہ میں یہی حال ہوتا رہا ہے۔وہ لوگ بڑے نادان ہیں جو اپنے ایمان کو اس شرط سے مشروط کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول ہو اور ہماری خواہش پوری ہو۔ایسے لوگوں کے متعلق قرآن شریف میں آیا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَكَ خَيْرُ إِطْمَانَ بِهِ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةُ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَ