تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 369

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۹ سورة الحج بہر حال حضرت مسیح ابن مریم خدا تعالیٰ کے تمام خا کی بندوں کی طرح اس تقسیم سے باہر نہیں رہ سکتے۔یہ حکماء کا قانون قدرت نہیں جو کوئی اس کو رد کر دے گا یہ تو سنت اللہ ہے جس کو خود اللہ جل شانہ نے تصریح سے بیان فرما دیا ہے۔سواس اس تقسیم الہی کی رو سے لازم آتا ہے کہ یا تو حضرت مسیح مِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفی میں داخل ہوں اور وفات پا کر بہشت بریں میں اس تخت پر بیٹھے ہوں جس کی نسبت انہوں نے آپ ہی انجیل میں بیان فرمایا ہے اور یا اگر اس قدر مدت تک فوت نہیں ہوئے تو زمانہ کی تاثیر سے اس ارذل عمر تک پہنچ گئے ہوں جس میں باعث بیکاری حواس ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۶،۲۶۵) اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سنت اللہ دو ہی طرح سے تم پر جاری ہے بعض تم میں سے عمر طبعی سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض عمر طبعی کو پہنچتے ہیں یہاں تک کہ ارذل عمر کی طرف رد کئے جاتے ہیں اور اس حد تک نوبت پہنچتی ہے کہ بعد علم کے نادان محض ہو جاتے ہیں۔یہ آیت بھی مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان اگر زیادہ عمر پاوے تو دن بدن ارذل عمر کی طرف حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ بچے کی طرح نادان محض ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۹،۴۲۸) یہ بات فریقین میں مسلم ہے کہ عام قانون قدرت خدا تعالیٰ کا یہی جاری ہے کہ اس عمر طبیعی کے اندراندر جو انسانوں کے لئے مقرر ہے ہر یک انسان مر جاتا ہے اور خدا تعالیٰ نے بھی قرآن کریم کے کئی مواضع میں اس بات کو بتصریح بیان کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَ مِنْكُم منْ يُتَوَفَّى وَ مِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا یعنی تم پر دو ہی حالتیں وارد ہوتی ہیں ایک یہ کہ بعض تم میں سے قبل از پیرانہ سالی فوت ہو جاتے ہیں اور بعض ارذل عمر تک پہنچتے ہیں۔یہاں تک کہ صاحب علم ہونے کے بعد محض نادان ہو جاتے ہیں۔اب اگر خلاف اس نص صریح کے کسی کی نسبت یہ دعویٰ کیا جائے کہ باوجود اس کے کہ عمر طبعی سے صد با حصے زیادہ اس پر زمانہ گزر گیا مگر وہ نہ مرا اور نہ ارذل عمر تک پہنچا اور نہ ایک ذرہ امتداد زمانہ نے اس پر اثر کیا تو ظاہر ہے کہ ان تمام امور کا اس شخص کے ذمہ ثبوت ہوگا جو ایسا دعویٰ کرتا ہے یا ایسا عقیدہ رکھتا ہے کیونکہ قرآن کریم نے تو کسی جگہ انسانوں کے لئے یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ بعض انسان ایسے بھی ہیں جو معمولی انسانی عمر سے صدہا درجہ زیادہ زندگی بسر کرتے ہیں اور زمانہ ان پر اثر کر کے ان کو ارذل عمر تک