تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 368
۳۶۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الحج جب ایسی مصیبتیں وارد ہوتی ہیں تو دنیا داروں کی عقل جاتی رہتی ہے اور وہ ایک سخت غم اور مصیبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی طریق ان کو نہیں سوجھتا۔قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ ہے وَ تَرَى النَّاسَ سُكرى وَمَا هُمْ بِشکری تو لوگوں کو دیکھتا ہے کہ نشے میں ہیں حالانکہ وہ کسی نشے میں نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ نہایت درجہ کے غم اور خوف سے ان کی عقل ماری گئی ہے اور کچھ حوصلہ باقی نہیں رہا ایسے موقع پر بجر متقی کے کسی کے اندر صبر کی طاقت نہیں رہتی۔دینی امور میں بجز تقویٰ کے کسی کو صبر حاصل نہیں ہو سکتا۔بلاء کے آنے کے وقت سوائے اس کے کون صبر کر سکتا ہے جو خدا کی رضا کے ساتھ اپنی رضا کو ملائے ہوئے ہو جب تک کہ پہلے ایمان پختہ نہ ہو ادنی نقصان سے انسان ٹھو کر کھا کر دہر یہ بن جاتا ہے جس کو خدا سے تعلق نہیں۔اس میں مصیبت کی برداشت نہیں۔دنیا دار لوگ تو ایسے مصائب کے وقت وجود باری تعالی کا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں۔( بدر جلدے نمبر ۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۴) ياَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَكُم مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ b نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلاً ثم لِتَبْلُغُوا اَشُدَّكُمْ وَمِنْكُمْ مَنْ يَتَوَتَّى وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَم مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا وَتَرَى الْأَرْضَ هَا مِدَةٌ فَإِذَا انْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاء اهْتَزَّتُ وَ ربَتْ وَ أَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ۔وَمِنكُمْ مَنْ يُتَوَلي وَمِنكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا یعنی اے بنی آدم ! تم دو گروہ ہو؛ ایک وہ جو پیرانہ سالی سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں یعنی پیر فرتوت ہو کر نہیں مرتے بلکہ پہلے ہی مر جاتے ہیں۔دوسرا وہ گروہ جو اس قدر بڑھے ہو جاتے ہیں جو ایک ارذل حالت زندگی کی جو قابل نفرت ہے ان میں پیدا ہو جاتی ہے یہاں تک کہ عالم اور صاحب عقل ہونے کے بعد سراسر نادان بچے کی طرح بن جاتے ہیں اور تمام عمر کا آموختہ بیک دفعہ سب بھول جاتا ہے۔اب چونکہ خدا تعالیٰ نے طرز حیات کے بارے میں بنی آدم کے صرف دو گروہوں میں تقسیم محدود کر دی تو