تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 348
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۸ سورة الانبياء دیکھو کہ یا جوج ماجوج زمین پر غالب ہو گئے تو سمجھو کہ وعدہ سچا مذہب حق کے پھیلنے کا نزدیک آ گیا اور وہ وعدہ یہ ہے هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله اور پھر فرمایا کہ اس وعدہ کے ظہور کے وقت کفار کی آنکھیں چڑھی ہوں گی اور کہیں گے کہ اے وائے ہم کو۔ہم اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے یعنی ظہور حق بڑے زور سے ہوگا اور کفار سمجھ لیں گے کہ ہم خطا پر ہیں ان تمام آیات کا ماحصل یہ ہے کہ آخری زمانہ میں دُنیا میں بہت سے مذہب پھیل جائیں گے اور بہت سے فرقے ہو جائیں گے پھر دو قو میں خروج کریں گی جن کا عیسائی مذہب ہوگا اور ہر یک طور کی بلندی وہ حاصل کریں گے۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۰) در حقیقت ایسی ہی پیشگوئی مسلمانوں کے اس زمانہ کے لئے جو حضرت مسیح کے زمانہ سے بلحاظ مدت وغیرہ لوازم مشابہ تھا قرآن کریم نے بھی کی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے مِن كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ أَى مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيُفْسِدُونَ فِي أَرْضِهِ وَيَتَمَلَكُونَ بِلادَهُ وَيَجْعَلُوْنَ أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ - اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ قوم نصاری جو فرقہ یا جوج اور ماجوج ہو گا ہر ایک بلندی سے ممالک اسلام کی طرف دوڑیں گے اور ان کو غلبہ ہوگا اور بلاد اسلام کو وہ دباتے جائیں گے یہاں تک کہ سلطنت اسلام صرف بنام رہ جائے گی جیسا کہ آج کل ہے۔واقعات کے تطابق کو دیکھو کہ کیوں کر اسلام کے مصائب اور مسلمانوں کی دینی دنیوی تباہی کا زمانہ یہودیوں کے اس زمانہ سے مل گیا ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھا اور پھر دیکھو کہ قرآن کی پیشگوئی اسلامی سلطنت کے ضعف کے بارے میں اور مخالفوں کے غالب ہونے کی نسبت کیسی اس پیشگوئی سے انطباق پاگئی ہے جو اسرائیلی سلطنت کے زوال کے بارہ میں توریت میں کی گئی تھی۔(شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۹) خدا تعالیٰ نے فرقان حمید میں۔۔۔یہودیوں کی بہت سی نا فرمانیاں جابجاذ کر کر کے متواتر طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آخری حالت عام مسلمانوں اور مسلمانوں کے علماء کی یہی ہو جائے گی اور پھر ذکر کیا کہ آخری زمانہ میں غلبہ نصاریٰ کا ہوگا اور ان کے ہاتھ سے طرح طرح کے فساد پھیلیں گے اور ہر طرف سے امواج فتن اٹھیں گی اور وہ ہر یک بلندی سے دوڑیں گی یعنی ہر یک طور سے وہ اپنی قوت اور اپنا عروج اور اپنی بلندی دکھلائیں گی۔ظاہری طاقت اور سلطنت میں بھی ان کی بلندی ہوگی کہ اور حکومتیں اور ریاستیں ان کے مقابل پر کمزور ہو جائیں گی اور علوم و فنون میں بھی ان کو بلندی حاصل ہوگی کہ طرح طرح کے علوم وفنون ایجاد کریں گے اور نادر اور