تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 345
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۵ سورة الانبياء جہنمیوں کے لئے جیسے فرمایا وَ حَرَمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ - أَهْلَكْنَهَا عَذاب پر بھی آتا ہے۔اس سے پایا جاتا ہے کہ خراب زندگی کے لوگ پھر واپس نہیں آئیں گے اور ایسا ہی بہشتیوں کے لئے بھی آیا ہے لا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلا ( الكهف : ١٠٩ ) - احکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰/ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۶) ان آیات کا یہ منشاء ہے کہ جو لوگ ہلاک کئے گئے اور دنیا سے اُٹھائے گئے ان پر حرام ہے کہ پھر دنیا میں آویں بلکہ جو گئے سو گئے۔ہاں یا جوج و ماجوج کے وقت میں ایک طور سے رجعت ہوگی یعنی گذشتہ لوگ جو مر چکے ہیں ان کے ساتھ اس زمانہ کے لوگ ایسی اتم اور اکمل مشابہت پیدا کر لیں گے کہ گویا وہی آگئے اسی بناء پر اس زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا اور محمدی مسیح کا نام ابنِ مریم رکھا گیا اور پھر اسی خاتم الخلفاء کا نام باعتبار ظہور بین صفات محمدیہ کے محمد اور احمد رکھا گیا اور مستعار طور پر رسول اور نبی کہا گیا اور اسی کو آدم سے لے کر اخیر تک تمام انبیاء کے نام دیئے گئے تا وعدہ رجعت پورا ہو جائے۔نزول مسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه حاشیه ۳۸۳) وَأَمَّا قَوْلُنَا إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِن اور ہمارا یہ قول کہ یاجوج ماجوج نصاری سے النَّصَارَى لَا قَوْم أَخَرُونَ فَقَاتُ بِالنُّصوص ہیں اور کوئی اور قوم نہیں۔تو یہ نصوص قرآنیہ سے ثابت الْقُرانِيَّةِ لأَنَّ الْقُرْآنَ الْكَرِيمَ قَد ذَكَرَ ہے اس لئے کہ قرآن کریم نے بتا دیا ہے کہ تمام غَلَبَعَهُمْ عَلى وَجْهِ الْأَرْضِ وَقَالَ مِنْ كُلِ روئے زمین پر غالب ہوں گی اور ہر ایک بلندی سے حَدَبٍ يَنْسِلُونَ يَعْنِى يَمْلِكُونَ كُلّ رِفْعَةٍ فی اتریں گی یعنی زمین میں ہر ایک رفعت کو حاصل کریں الْأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ أَعِزَّةً أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ کے اور معززوں کو ذلیل کر دیں گے اور سب حکومتوں وَيَبْتَلِعُوْنَ كُلَّ حُكُومَةٍ وَرِيَاسَةٍ وَسَلْطَنَةٍ اور ریاستوں اور سلطنتوں اور دولتوں کو اس بڑی مچھلی وَدَوْلَةِ ابْتِلَاعَ الْحُوتِ الْعَظِيْمِ الصَّغَارَ۔وَإِنَّا کی مانند نگل جاویں گے جو چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو نگل تَرَى بِأَعْيُنِنَا أَنَّهُمْ كَذلِكَ يَفْعَلُونَ جاتی ہے اور ہما را چشمد ید ہے کہ وہ ایسا ہی کر رہے وَاطْمَعَلَّت رِيَاسَاتُ الْمُسْلِمِينَ وَتَطَرَّقَ ہیں اور مسلمانوں کی ریاستیں پژمردہ ہوگئی ہیں اور الضُّعْفُ في دَوْلَعِهِمْ وَقُوِّيهِمْ وَشَوْ كَرِيمُ، دولت و شوکت میں ضعف آگیا ہے اور عیسائی وَيَرَوْنَ سَلاطين النَّصَارَی كَالسّباعِ حَوْلَهُمْ، سلطنتوں کو اپنے ارد گرد درندوں کی مانند دیکھتے ہیں وَلَا يَبِيتُونَ إِلَّا خَائِفِينَ وَقَدْ ثَبَتَ مِن اور ڈرتے ڈرتے رات کاٹتے ہیں اور قرآن کے