تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 344
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۴ سورة الانبياء وَحَرِّمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ۔حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَ مَاجُوجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ۔(94) اس میں تو کچھ شک نہیں کہ اس بات کے ثابت ہونے کے بعد کہ در حقیقت حضرت مسیح ابن مریم اسرائیلی نبی فوت ہو گیا ہے ہر ایک مسلمان کو یہ ماننا پڑے گا کہ فوت شدہ نبی ہرگز دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتا کیونکہ قرآن اور حدیث دونوں بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ جو شخص مر گیا پھر دنیا میں ہر گز نہیں آئے گا اور قرآن کریم اَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ کہہ کر ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے ان کو رخصت کرتا ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۹) ہمارا یہی اصول ہے کہ مردوں کو زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی عادت نہیں اور وہ آپ فرماتا ہے حرام عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لا يَرْجِعُونَ یعنی ہم نے یہ واجب کر دیا ہے کہ جو مر گئے پھر وہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۲۲) حضرت ابنِ عباس سے حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ جن لوگوں پر واقعی طور پر موت وارد ہو جاتی ہے اور در حقیقت فوت ہو جاتے ہیں پھر وہ زندہ کر کے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے۔یہی روایت تفسیر معالم میں بھی زیر تفسیر آیت موصوفہ بالا حضرت ابن عباس سے منقول ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱۹ حاشیه در حاشیه ) اس نے صریح اور صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ جو لوگ مر گئے پھر دنیا میں نہیں آیا کرتے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔۔۔۔۔حرام عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ - ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۴۵) اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ جو مر جاتے ہیں وہ واپس نہیں آتے اور ترمذی میں حدیث موجود ہے کہ ایک صحابی شہید ہوئے انہوں نے عرض کی کہ یا الہی مجھے دنیا میں پھر بھیجو تو خدا تعالیٰ نے جواب یہی دیا۔قد سبق الْقَوْلُ مِنَى حَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ الحکم جلد ۴ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۶ ؍ جولائی ۱۹۰۰ صفحه ۲) قرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کے واپس نہ آنے کے دو وعدے ہیں ایک