تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 9
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹ سورة ابراهيم کچھ حزن اور اس بہشت سے خوش ہو جس کا تم وعدہ دیئے گئے تھے یعنی اب وہ بہشت تمہیں مل گیا اور بہشتی زندگی اب شروع ہوگئی۔کس طرح شروع ہوگئی نَحْنُ اولیو كُفر الخ اس طرح کہ ہم تمہارے متولی ور متکفل ہو گئے اس دنیا میں اور آخرت میں اور تمہارے لئے اس بہشتی زندگی میں جو کچھ تم مانگو وہی موجود ہے یہ غفور رحیم کی طرف سے مہمانی ہے۔مہمانی کے لفظ سے اس پھل کی طرف اشارہ کیا ہے جو آیت تُؤْتي احلهَا كُل حین میں فرمایا گیا تھا۔اور آیت فَرْعُهَا فِي السَّمَاء کے متعلق ایک بات ذکر کرنے سے رہ گئی کہ کمال اس تعلیم کا باعتبار اس کے انتہائی درجہ ترقی کے کیوں کر ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن شریف سے پہلے جس قدر تعلیمیں آئیں در حقیقت وہ ایک قانون مختص القوم یا مختص الزمان کی طرح تھیں اور عام افادہ کی قوت ان میں نہیں پائی جاتی تھی۔لیکن قرآن کریم تمام قوموں اور تمام زمانوں کی تعلیم اور تحمیل کے لئے آیا ہے مثلاً نظیر کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسی کی تعلیم میں بڑا زور سزا دہی اور انتقام میں پایا جاتا ہے جیسا کہ دانت کے عوض دانت اور آنکھ کے عوض آنکھ کے فقروں سے معلوم ہوتا ہے۔اور حضرت مسیح کی تعلیم میں بڑا زور عفو اور درگزر پر پایا جاتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ دونوں تعلیمیں ناقص ہیں نہ ہمیشہ انتقام سے کام چلتا ہے اور نہ ہمیشہ عفو سے بلکہ اپنے اپنے موقعہ پر نرمی اور درشتی کی ضرورت ہوا کرتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے جَزُوا سَيْئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلَهَا ، فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری : ۴۱ ) ( س ۵/۲۵) یعنی اصل بات تو یہ ہے کہ بدی کا عوض تو اسی قدر بدی ہے جو پہنچ گئی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور عفو کا نتیجہ کوئی اصلاح ہو نہ کہ کوئی فساد۔یعنی عفو اپنے محل پر ہو نہ غیر محل پر۔پس اجر اس کا اللہ پر ہے یعنی یہ نہایت احسن 9971 طریق ہے۔اب دیکھئے اس سے بہتر اور کون سی تعلیم ہوگی کہ عفو کو عفو کی جگہ اور انتقام کو انتقام کی جگہ رکھا۔اور پھر فرما يا إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَانِى ذِي الْقُرْبى (النحل : ۹۱ ) ( س ۱۴ (۱۹) یعنی اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجود رعایت عدل کے احسان کرو اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اور ذوالقربی ہیں۔اب سوچنا چاہیے کہ مراتب تین ہی ہیں۔اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے۔پھر اگر اس سے بڑھے تو مر تبہ احسان ہے۔اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتا ہے جیسے ما اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے یعنی ایک طبعی جوش سے نہ