تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 340

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۰ سورة الانبياء ایسے بچے وہ ہوتے ہیں جب عورتیں پاکدامن اور پاک خیال ہوں اور اسی حالت میں استنقر ار نطفہ ہو وہ بچے پاک ہوتے ہیں اور شیطان کا اُن میں حصہ نہیں ہوتا۔(۲) دوسری وہ عورتیں ہیں جن کے حالات اکثر گندے اور نا پاک رہتے ہیں۔پس ان کی اولاد میں شیطان اپنا حصہ ڈالتا ہے جیسا کہ آیت: وَشَارِكَهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلادِ (بنی اسرائیل : ۶۵) اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس میں شیطان کو خطاب ہے کہ ان کا مالوں اور بچوں میں حصہ دار بن جا۔یعنی وہ حرام کے مال اکٹھا کریں گی اور نا پاک اولا د جنیں گی۔ایسا سمجھنا غلطی ہے کہ حضرت عیسی کو نفخ رُوح سے کچھ خصوصیت تھی جس میں دوسروں کو حصہ نہیں۔بلکہ نعوذ باللہ یہ خیال قریب قریب کفر کے جا پہنچتا ہے۔اصل حقیقت صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں انسانوں کی پیدائش میں دو قسم کی شراکت بیان فرمائی گئی ہے (۱) ایک رُوح القدس کی شراکت جب والدین کے خیالات پر نا پا کی اور خباثت غالب نہ ہو (۲) اور ایک شیطان کی شراکت جب اُن کے خیال پر نا پا کی اور پلیدی غالب ہو۔اسی کی طرف اشارہ اس آیت میں بھی ہے کہ لَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا (نوح:۲۸)۔پس بلا شبہ حضرت عیسی علیہ السلام اُن لوگوں میں سے تھے جو مس شیطان اور نفخ ابلیس سے پیدا نہیں ہوئے اور بغیر باپ کے ان کا پیدا ہونا یہ امر دیگر تھا جس کو رُوح القدس سے کچھ تعلق نہیں۔۔۔۔۔روح القدس کے فرزند وہی ہیں جو عورتوں کی کامل پاکدامنی اور مردوں کے کامل پاک خیال کی حالت میں رحم مادر میں وجود پکڑتے ہیں۔اور اُن کی ضد شیطان کے فرزند ہیں۔خدا کی ساری کتابیں یہی گواہی دیتی آئی ہیں۔اور پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو بنی اسرائیل کے لئے اور اُن سب کے لئے جو سمجھیں ایک نشان بنایا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت عیسی کو بغیر باپ کے پیدا کر کے بنی اسرائیل کو سمجھا دیا کہ تمہاری بداعمالی کے سبب سے نبوت بنی اسرائیل سے جاتی رہی کیونکہ عیسی باپ کے رُو سے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہے۔۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۹۸،۲۹۷) یعنی خدا تعالیٰ نے اس عورت کو ہدایت دی جس نے اپنی شرم گاہ کو نامحرم سے بچایا۔پس خدا نے اس میں اپنی روح کو پھونک دیا اور اس کو اور اس کے بیٹے کو دنیا کے لئے ایک نشان ٹھہرایا اور خدا نے کہا کہ یہ امت تمہاری ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں سو تم میری ہی بندگی کرو مگر وہ فرقہ فرقہ ہو گئے اور اپنی بات کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور باہم اختلاف ڈال دیا اور آخر ہریک ہماری ہی طرف رجوع کرے گا۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۰)