تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 338

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۸ سورة الانبياء عذاب کسی کے توبہ استغفار سے مل جائے تو اس کا نام تخلف وعدہ نہیں کیونکہ بڑا وعدہ سنت اللہ ہے پس جبکہ سنت اللہ پوری ہوئی تو وہ ایفاء وعدہ ہوا نہ تخلف وعدہ۔ا مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۴۴۶ تا ۷ ۴۴) إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الميعاد۔۔۔۔۔یا درکھنا چاہیے کہ وعدہ سے مراد وہ امر ہے جو علم الہی میں بطور وعدہ قرار پاچکا ہے نہ وہ امر جو انسان اپنے خیال کے مطابق اس کو قطعی وعدہ خیال کرتا ہو۔اسی وجہ سے المیعاد پر جوالف لام ہے وہ عہد ذہنی کی قسم میں سے ہے یعنی وہ امر جو ارادہ قدیمہ میں وعدہ کے نام سے موسوم ہے گوانسان کو اس کی تفاصیل پر علم ہو یا نہ ہو وہ غیر متبدل ہے ورنہ ممکن ہے جو انسان جس بشارت کو وعدہ کی صورت میں سمجھتا ہے اس کے ساتھ کوئی ایسی شرط مخفی ہو جس کا عدم تحقق اس بشارت کی عدم تحقق کے لئے ضرور ہو کیونکہ شرائط کا ظاہر کرنا اللہ جل شانہ پر حق واجب نہیں ہے چنانچہ اسی بحث کو شاہ ولی اللہ صاحب نے بسط سے لکھا ہے اور مولوی عبدالحق صاحب دہلوی نے بھی فتوح الغیب کی شرح میں اس میں بہت عمدہ بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلعم کا بدر کی لڑائی میں تضرع اور دعا کرنا اسی خیال سے تھا کہ الہی مواعید اور بشارات میں احتمال شرط مخفی ہے اور یہ اس لئے سنت اللہ ہے کہ تا اس کی خاص بندوں پر ہیبت اور عظمت الہی مستولی رہیں۔ماحصل کلام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں میں بے شک تخلف نہیں وہ جیسا کہ خد تعالی کے علم میں ہیں پورے ہو جاتے ہیں لیکن انسان ناقص العقل کبھی ان کو تخلف کی صورت میں سمجھ لیتا ہے کیونکہ بعض ایسی مخفی شرائط پر اطلاع نہیں پاتا جو پیشگوئی کو دوسرے رنگ میں لے آتے ہیں اور ہم لکھ چکے ہیں کہ الہامی پیشگوئیوں میں یہ یا درکھنے کے لائق ہے کہ وہ ہمیشہ ان شرائط کے لحاظ سے پوری ہوتی ہیں جو سنت اللہ میں اور الہی کتاب میں مندرج ہو چکی ہیں گو وہ شرائط کسی ولی کے الہام میں ہوں یا نہ ہوں۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۴۴۷، ۴۴۸ حاشیه ) دعا بہت بڑی سپر کامیابی کے لئے ہے یونس کی قوم گریہ وزاری اور دعا کے سبب آنے والے عذاب سے بچ گئی۔میری سمجھ میں معاتبت مغاضبت کو کہتے ہیں اور حوت مچھلی کو کہتے ہیں اور نون تیزی کو بھی کہتے ہیں اور مچھلی کو بھی۔پس حضرت یونس کی وہ حالت ایک مغاضبت کی تھی۔اصل یوں ہے کہ عذاب کے ٹل جانے سے ان کو شکوہ اور شکایت کا خیال گزرا کہ پیشگوئی اور دعا یوں ہی رائگاں گئی اور یہ بھی خیال گزرا کہ میری بات پوری کیوں نہ ہوئی پس یہی مغاضبت کی حالت تھی۔اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ تقدیر کو اللہ بدل دیتا ہے اور رونا دھونا اور صدقات فرد قرار داد جرم کو بھی ردی کر دیتے ہیں۔اصول خیرات کا اسی سے نکلا ہے۔یہ طریق اللہ