تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 335

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۵ سورة الانبياء بَطْنِ الْحُوتِ كَانَ إِشَارَةً إِلى مُحَاوَتَةٍ جو آپ سے پریشان خاطر لوگوں کی طرح صادر ہوئی ۔ اسی صَدَرَ مِنْهُ كَالْمَبْهُوتِ، وَكَذَلِكَ سَمَّاءُ لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام ذوالنون رکھا۔ کیونکہ آپ سے اللهُ ذَا النُّونِ بِمَا ظَهَرَ مِنْهُ حِدَّةٌ وَنُونَ نون“ یعنی تیزی ظاہر ہوئی تھی اور دل میں بھرے ہوئے بِالْغَضَبِ الْمَكْنُونِ، وَلَا يَلِيقُ لِأَحَدٍ أَنْ غصہ کا اظہار ہوا حالانکہ کسی کو خدائے ربّ العالمین سے يَغْضَبَ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ ناراض ہونا مناسب نہیں۔ فَالْحَاصِلُ أَنَّ قِصَّةَ يُونُسَ فِي كَلَامِ پس حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اللهِ الْقَدِيرِ ، دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ قَدْ يُؤَخَرُ جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ کبھی عَذَابُ اللهِ مِنْ غَيْرِ شَرْطٍ يُوجِبُ حُكْمَ کبھی اللہ تعالیٰ کا عذاب بغیر ایسی شرط کے جو پیشگوئی میں مذکور التَّأْخِيرِ، كَمَا أُخِرَ فِي نَبَأَ يُونُسَ بَعْدَ ہوتا خیر میں ڈال دیا جاتا ہے جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام التَّشْهِيْرِ، فَكَيْفَ فِي نَبَأَ يُوجَدُ فِيهِ کی پیشگوئی کی تشہیر کے بعد عذاب کو پیچھے ڈال دیا گیا۔ پس شَرْطُ الرُّجُوعِ فَفَكِّرُ بِالْخُضُوع اس پیشگوئی کے وقوع میں تاخیر کا ہو جانا جس میں رجوع کی وَالْخُشُوعِ، وَلَا تَنْسَ حَظَّكَ مِن شرط بھی پائی جاتی ہو کیوں کر قابلِ اعتراض ہو سکتا ہے۔ پس التَّقْوَى وَالدِّينِ وَإِنَّ قِصَّةَ يُونُسَ خشوع و خضوع کے ساتھ غور کرو اور ا و اور اپنے تقوی اور دین مَوْجُودَةٌ فِي الْقُرْآنِ وَالْكُتُبِ السَّابِقَةِ کو نہ بھولو۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید ، وَالْأَحَادِيثِ النَّبَوِيَّةِ، وَلَيْسَ هُنَاكَ كتب سابقہ اور احادیث نبویہ میں موجود ہے اور وہاں سزا ذِكْرُ شَرْطٍ مَعَ ذِكْرِ الْعُقُوْبَةِ، وَإِنْ لَّمْ کے ذکر کے ساتھ کسی شرط کا ذکر نہیں۔ اور اگر تم اس بات کو تَقْبَلْ فَعَلَيْكَ أَنْ تُرِينَا شَرْطًا فِي تِلْكَ ماننے کے لئے تیار نہ ہو تو تم پر لازم ہے کہ اس قصہ میں کوئی الْقِصَّةِ، فَلَا تَكُنْ كَالْأَعْمَى مَعَ وُجُودِ شرط ہمیں دکھاؤ۔ پس بصارت رکھنے کے باوجود نا بینا نہ بنو الْبَصَارَةِ وَاعْلَمْ أَنَّ الشَّرْطَ لَمْ يَكُن اور جان لو کہ اس قصہ میں ہر گز کوئی شرط موجود نہیں تھی ۔ اور أَصْلًا فِي الْقِصَّةِ الْمَذْكُورَةِ، وَلِأَجْلِ اسی لئے حضرت یونس علیہ السلام ابتلاء میں ڈالے گئے اور ذلِكَ ابْتُلِيَ يُونُسُ وَصَارَ مِن مورد ملامت ہوئے۔ آپ پر ہموم و غموم نازل ہوئے اور الْمَلُومِينَ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِ الْهُمُومُ، آپ کو تنگی دل نے پکڑ لیا یہاں تک کہ آپ موت کے قریب وَأَخَذَهُ الشَّجَرُ الْمَنْمُومُ، حَتَّی پہنچ گئے اور تمام سابقہ مصائب کو بھول گئے اور انہوں نے