تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 8

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام V سورة ابراهيم صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لئے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مدبر بالا رادہ بھی ہو اور ستجمع جمیع صفات کا ملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔ دوسری نشانی یعنی فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ جس کے معنی یہ ہیں کہ آسمان تک اس کی شاخیں پہنچی ہوئی ہیں اور آسمان پر نظر ڈالنے والے یعنی قانون قدرت کے مشاہدہ کرنے والے اس کو دیکھ سکیں اور نیز وہ انتہائی درجہ کی تعلیم : م ثابت ہو۔ اس کے ثبوت کا ایک حصہ تو اسی آیت موصوفہ بالا سے پیدا ہوتا ہے کس لئے کہ جیسا کہ اللہ جل شانہ نے مثلاً قرآن کریم میں یہ تعلیم بیان فرمائی ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة : ۲ تا ۴) جس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ جل شانہ تمام عالموں کا رب ہے یعنی علت العلل ہر ایک ربوبیت کا وہی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ رحمان بھی ہے یعنی بغیر ضرورت کسی عمل کے اپنی طرف سے طرح طرح کے آلاء اور نعماء شامل حال اپنی مخلوق کے رکھتا ہے اور رحیم بھی ہے کہ اعمال صالحہ کے بجالانے والوں کا مددگار ہوتا ہے اور ان کے مقاصد کو کمال تک پہنچاتا ہے اور مالک یوم الدین بھی ہے کہ ہر ایک جزا سزا اس کے ہاتھ میں ہے جس طرح پر چاہے اپنے بندہ سے معاملہ کرے۔ چاہے تو اس کو ایک عمل بد کے عوض میں وہ سزاد یوے جو اس عمل بد کے مناسب حال ہے اور چاہے تو اس کے لئے مغفرت کے سامان میسر کرے اور یہ تمام امور اللہ جل شانہ کے اس نظام کو دیکھ کر صاف ثابت ہوتے ہیں ۔ بود پھر تیسری نشانی جو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِينِ یعنی کامل کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ جس پھل کا وہ وعدہ کرتی ہے وہ صرف وعدہ ہی وعدہ نہ ہو بلکہ وہ پھل ہمیشہ اور ہر وقت میں دیتی رہے۔ اور پھل سے مراد اللہ جل شانہ نے اپنا لقامعہ اس کے تمام لوازم کے جو برکات سماوی اور مکالمات الہیہ اور ہر ایک قسم کی قبولیتیں اور خوارق ہیں رکھی ہیں جیسا کہ خود فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوا وَ لَا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ۚ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِىَ أَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ ( حم السجدة : ۳۱ تا ۳۳) (س ۲۴ / ۱۸) وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر انہوں نے استقامت اختیار کی یعنی اپنی بات سے نہ پھرے اور طرح طرح کے زلازل ان پر آئے مگر انہوں نے ثابت قدمی کو ہاتھ سے نہ دیا۔ ان پر فرشتے اترتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ تم کچھ خوف نہ کرو اور نہ