تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 6
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶ سورة ابراهيم وہ ایمانی کلمہ جو ہر ایک افراط تفریط اور نقص اور خلل اور کذب اور ہنرل سے پاک اور من کل الوجوہ کامل ہو۔اس درخت کے ساتھ مشابہ ہے جو ہر ایک عیب سے پاک ہو۔جس کی جڑھ زمین میں قائم اور شاخیں آسمان میں ہوں اور اپنے پھل کو ہمیشہ دیتا ہو۔اور کوئی وقت اس پر نہیں آتا کہ اس کی شاخوں میں پھل نہ ہوں۔اس بیان میں خدا تعالیٰ نے ایمانی کلمہ کو ہمیشہ پھل دار درخت سے مشابہت دے کر تین علامتیں اس کی بیان فرمائیں۔(۱) اول یہ کہ جڑھ اس کی جو اصل مفہوم سے مراد ہے انسان کے دل کی زمین میں ثابت ہو یعنی انسانی فطرت اور انسانی کانشنس نے اس کی حقانیت اور اصلیت کو قبول کر لیا ہو۔(۲) دوسری علامت یہ کہ اس کلمہ کی شاخیں آسمان میں ہوں یعنی معقولیت اپنے ساتھ رکھتا ہو اور آسمانی قانون قدرت جو خدا کا فعل ہے اس فعل کے مطابق ہو۔مطلب یہ کہ اس کی صحت اور اصلیت کے دلائل قانون قدرت سے مستنبط ہو سکتے ہوں اور نیز یہ کہ وہ دلائل ایسے اعلیٰ ہوں کہ گویا آسمان میں ہیں جن تک اعتراض کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔(۳) تیسری علامت یہ ہے کہ وہ پھل جو کھانے کے لائق ہے دائمی اور غیر منقطع ہو۔یعنی عملی مزاولت کے بعد اس کی برکات و تاثیرات ہمیشہ اور ہر زمانہ میں مشہود اور محسوس ہوتی ہوں۔یہ نہیں کہ کسی خاص زمانہ تک ظاہر ہوکر پھر آگے بند ہو جا ئیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۱) کیا تو نے نہیں دیکھا کیوں کر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑ ثابت ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنی پروردگار کے حکم سے دیتا ہو اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تا لوگ ان کو یاد کر لیں اور نصیحت پکڑ لیں۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلام پاک اور مقدس کا کمال تین باتوں پر موقوف قرار دیتا ہے۔اول یہ کہ اصلها ثابت یعنی اصول ایما نیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور فی حد ذاتہ یقین کامل کے درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں اور فطرت انسانی اس کو قبول کرے کیونکہ ارض کے لفظ سے اس جگہ فطرت انسانی مراد ہے جیسا کہ مِن فَوقِ الْأَرْضِ (ابراهیم (۲۷) کا لفظ صاف بیان کر رہا ہے۔۔۔۔۔خلاصہ یہ کہ اصول ایمانیہ ایسے چاہئیں کہ ثابت شدہ اور انسانی فطرت کے موافق ہوں۔پھر دوسری نشانی کمال کی یہ فرماتا ہے کہ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ یعنی اس کی شاخیں آسمان پر ہوں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آسمان کی طرف نظر