تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 306
سورة الانبياء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام محتاج ہے بلکہ عرش سے مراد وہ مقدس بلندی کی جگہ ہے جو اس جہان اور آنے والے جہان سے برابر نسبت رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کو عرش پر کہنا درحقیقت ان معنوں سے مترادف ہے کہ وہ مالک الکونین ہے اور جیسا کہ ایک شخص اونچی جگہ بیٹھ کر یا کسی نہایت اونچے محل پر چڑھ کر یمین و یسار نظر رکھتا ہے۔ایسا ہی استعارہ کے طور پر خدا تعالیٰ بلند سے بلند تخت پر تسلیم کیا گیا ہے جس کی نظر سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ اس عالم کی اور نہ اس دوسرے عالم کی۔ہاں اس مقام کو عام سمجھوں کے لئے اوپر کی طرف بیان کیا جاتا ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ حقیقت میں سب سے اوپر ہے اور ہر یک چیز اس کے پیروں پر گری ہوئی ہے تو اوپر کی طرف سے اس کی ذات کو مناسبت ہے مگر اوپر کی طرف وہی ہے جس کے نیچے دونوں عالم واقع ہیں اور وہ ایک انتہائی نقطہ کی طرح ہے جس کے نیچے سے دو عظیم الشان عالم کی دو شاخیں نکلتی ہیں اور ہر ایک شاخ ہزار ہا عالم پر مشتمل ہے جن کا علم بجز اس ذات کے کسی کو نہیں جو اس نقطہ انتہائی پر مستوی ہے جس کا نام عرش ہے اس لئے ظاہری طور پر بھی وہ اعلیٰ سے اعلیٰ بلندی جو اوپر کی سمت میں اس انتہائی نقطہ میں متصور ہو۔جو دونوں عالم کے اوپر ہے وہی عرش کے نام سے عند الشرع موسوم ہے اور یہ بلندی باعتبار جامعیت ذاتی باری کی ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ مبدء ہے ہر یک فیض کا اور مرجع ہے ہر یک چیز کا اور مسجود ہے ہر یک مخلوق کا اور سب سے اونچا ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور کمالات میں ورنہ قرآن فرماتا ہے کہ وہ ہر یک جگہ ہے جیسا کہ فرمایا أَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ الله (البقرۃ:۱۱۲) جدھر منہ پھیر وادھر ہی خدا کا منہ ہے اور فرماتا ہے هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمُ (الحديد : ۵) یعنی جہاں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق: ۱۷) یعنی ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہیں یہ تینوں تعلیموں کا ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۰۰) نمونہ ہے۔لا يُسْلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْتَلُونَ۔خدا اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا کہ کیوں ایسا کیا لیکن بندے پوچھے جائیں گے۔(کتاب البریه، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۰ حاشیه ) وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا کہ ایسا کیوں کیا اور لوگ پوچھے جاتے ہیں۔(براہین احمدیہ چہار ص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۵ حاشیه در حاشیه نمبر ۳)