تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 304
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام له ولد سورة الانبياء الوجود ہیں خدائے تعالیٰ کی طرف صعود کرتی ہیں اور عمل صالح اُن کا رفع کرتا ہے یعنی جس قدر عمل صالح ہو اُسی قدر روح کا رفع ہوتا ہے۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۲، ۳۳۳) جب ہم اس آیت مذکورہ بالا کو اس دوسری آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ مَا جَعَلْنَهُمْ جَسَدً الَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ جس کے یہ معنے ہیں کہ کوئی ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا کہ زندہ تو ہو مگر کھانا نہ کھاتا ہو۔ تو اس یقینی اور قطعی نتیجہ تک ہم پہنچ جائیں گے کہ فی الواقعہ حضرت مسیح فوت ہو گئے کیونکہ کیونکہ پہلی آیت سے بیت سے ثابت ہو گیا کہ اب وہ کھانا نہیں کھاتے اور دوسری آیت بتلارہی ہے کہ جب تک یہ جسم خا کی زندہ ہے طعام کھانا اس کے لئے ضروری ہے۔ اس سے قطعی طور پر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اب وہ زندہ نہیں ہیں۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۶) در حقیقت یہی اکیلی آیت کافی طور پر مسیح کی موت پر دلالت کر رہی ہے کیونکہ جبکہ کوئی جسم خاکی بغیر طعام کے زندہ نہیں رہ سکتا یہی سنت اللہ ہے تو پھر حضرت مسیح کیوں کر اب تک بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَ لَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا ( الاحزاب : ۶۳ ) ۔ اور اگر کوئی کہے کہ اصحاب کہف بھی تو بغیر طعام کے زندہ موجود ہیں ۔ تو میں کہتا ہوں کہ اُن کی زندگی بھی اس جہان کی زندگی نہیں۔ مسلم کی حدیث سو برس والی اُن کو بھی مار چکی ہے۔ بیشک ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اصحاب کہف بھی شہداء کی طرح زندہ ہیں۔ اُن کی بھی کامل زندگی ہے۔ مگر وہ دنیا کی ایک نا قصہ کثیفہ زندگی سے نجات پاگئے ہیں۔ دنیا کی زندگی کیا چیز ہے اور کیا حقیقت ۔ ایک جاہل اسی کو بڑی چیز سمجھتا ہے اور ہر یک قسم کی زندگی کو جو قرآن شریف میں مذکور و مندرج ہے اسی کی طرف گھسیٹتا چلا جاتا ہے۔ وہ یہ خیال نہیں کرتا کہ دنیوی زندگی تو ایک ادنی درجہ کی زندگی ہے جس کے ارذل حصہ سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پناہ مانگی ہے اور جس کے ساتھ نہایت غلیظ اور مکر وہ لوازم لگے ہوئے ہیں۔ اگر ایک انسان کو اس سفلی زندگی سے ایک بہتر زندگی حاصل ہو جائے اور سنت اللہ میں فرق نہ آوے تو اس سے زیادہ اور کون سی خوبی ہے۔ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۶، ۴۲۷) لَوْ أَرَدْنَا أَنْ تَتَّخِذَ لَهُوَ الَّا تَخَذْنَهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَعِلِينَ ) وَأَيُّ فَائِدَةٍ لَّكُمْ فِي حَيَاتِ الْمَسِيحِ اورمسیح علیہ السلام کی زندگی میں تم کو بجز اس کے کیا