تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 302
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٢ سورة الانبياء اٹھانا حرام ہے تو اس صورت میں یہ بھی ناجائز ہوگا کہ ان کتابوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بطور استدلال پیشگوئیاں پیش کریں۔حالانکہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد ان کے تابعین بھی ان پیشگوئیوں کو بطور حجت پیش کرتے رہے ہیں۔چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۳ حاشیه ) اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ہمیں حث اور ترغیب دیتا ہے کہ تم ہر ایک واقعہ اور ہر ایک امر کی جو تمہیں بتلایا گیا ہے پہلی اُمتوں میں نظیر تلاش کرو کہ وہاں سے تمہیں نظیر ملے گی۔اب ہم اس عقیدے کی نظیر کہ انسان دنیا سے جا کر پھر آسمان سے دوبارہ دنیا میں آسکتا ہے کہاں تلاش کریں اور کس کے پاس جا کر روویں کہ خدا کی گذشتہ عادات میں اس کا کوئی نمونہ بتلاؤ ؟ ہمارے مخالف مہربانی کر کے آپ ہی بتلا دیں کہ اس قسم کا واقعہ بھی پہلے بھی ہوا ہے اور کبھی پہلے بھی کوئی انسان ہزار دو ہزار برس تک آسمان پر رہا؟ اور پھر فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے اُترا۔اگر یہ عادت اللہ ہوتی تو کوئی نظیر اس کی گزشتہ قرون میں ضرور ملتی۔کیونکہ دُنیا تھوڑی رہ گئی ہے اور بہت گزرگئی اور آئندہ کوئی واقعہ دنیا میں نہیں جس کی پہلے نظیر نہ ہو۔حالانکہ جوامر سنت اللہ میں داخل ہے اُس کی کوئی نظیر ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صاف فرماتا ہے فَسَتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ یعنی ہر ایک نئی بات جو تمہیں بتلائی جائے تم اہلِ کتاب سے پوچھ لو وہ تمہیں اس کی نظیر میں بتلائیں گے لیکن اس واقعہ کی یہود اور نصاری کے ہاتھ میں بجز ایلیا کے قصے کے کوئی اور نظیر نہیں اور ایلیا کا قصہ اس عقیدے کے برخلاف شہادت دیتا ہے اور دوبارہ آنے کو بروزی رنگ میں بتلاتا ہے۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۸۹) وَمَا جَعَلْنَهُمْ جَسَدَّ الاَ يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَلِدِينَ دوسری آیت جو عام استدلال کے طریق سے مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے یہ آیت ب وَمَا جَعَلْتَهُمْ جَسَدٌ إِلا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَلِدِينَ یعنی کسی نبی کا ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے کا محتاج نہ ہو اور وہ سب مر گئے کوئی اُن میں سے باقی نہیں۔ایسا ہی عام طور پر یہ بھی فرما یاد مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَايِنْ مِتَ فَهُمُ الْخَلِدُونَ - كُلُّ نَفْسٍ ذَابِقَةُ الْمَوْتِ (الانبیاء : ۳۶،۳۵) (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۵) مسیح کو زندہ خیال کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ برخلاف مفہوم آیت وَمَا جَعَلْنَهُمْ جَسَدً الَا يَأْكُلُونَ