تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 300
سورة الانبياء تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اوقات جذام وغیرہ امراض مزمنہ کو بمشیت الہی اسی عمل کی تاثیر سے دور کر دیتے ہیں سوصرف شفا امراض پر حصر رکھنا ایک دھوکہ ہے جب تک اس کے ساتھ پیشگوئی شامل نہ ہو اسی طرح آج کل بعض تماشا کرنے والے آگ میں بھی کو دتے ہیں اور اس کے اثر سے بچ جاتے ہیں سو کیا اس قسم کے تماشوں سے کوئی حقیقت ثابت ہوسکتی ہے۔من سلویٰ کا تماشا شاید آپ نے کبھی دیکھا نہیں ایک ایک پیسہ لے کر کشمش وغیرہ برسا دیتے ہیں اگر آپ آج کل کے یورپ کے تماشائیوں کو دیکھیں جو ایک مخفی فریب کی راہ سے سرکاٹ کر بھی پیوند کر دیتے ہیں تو شاید آپ ان کے دست بیچ ہو جا ئیں۔مجھے یاد ہے کہ جالندھر کے مقام میں ایک شعبدہ باز تھار جب علی نام نے جو آ خر تو بہ کر کے اس عاجز کے سلسلہ بیعت میں داخل ہو گیا میرے مکان پر ایک مجلس میں شعبدہ دکھلایا تب آپ جیسے ایک بزرگ بول اٹھے کہ یہ تو صریح کرامت ہے۔حضرت ایسے کاموں سے ہرگز حقیقت نہیں کھلتی بلکہ اس زمانہ میں تو اور بھی شک پڑتا ہے۔بہتیرے ایسے تماشا کرنے والے اور طلسم دکھلانے والے پھرتے ہیں کہ اگر آپ ان کو دیکھیں تو کراماتی نام رکھیں لیکن کوئی عقل مند جس کی آج کل کے شعبدوں پر نظر محیط ہو۔ایسے کاموں کا نام نشان بین نہیں رکھ سکتا۔مثلاً اگر کوئی شخص ایک کاغذ کے پرچہ کو اپنی بغل میں پوشیدہ کر کے پھر بجائے کاغذ کے اس میں سے کبوتر نکال کر دکھلا دے تو پھر آپ جیسا کوئی آدمی اگر اس کو صاحب کرامات کہے تو کہے مگر ایک عقل مند جو ایسے لوگوں کے فریبوں سے بخوبی واقف ہے ہرگز اس کا نام کرامت نہیں رکھے گا بلکہ اس کو فریب اور دست بازی قرار دے گا اسی وجہ سے قرآن کریم اور توریت میں سچے نبی کی شناخت کے لئے یہ علامتیں قرار نہیں دیں کہ وہ آگ سے بازی کرے یا لکڑی کے سانپ بناوے یا اسی قسم کے اور کرتب دکھلاوے بلکہ یہ علامت قرار دی کہ اس کی پیشگوئیاں وقوع میں آجائیں یا اس کی تصدیق کے لئے پیشگوئی ہو۔کیونکہ استجابت دعا کے ساتھ اگر حسب مراد کوئی امر غیب خدا تعالیٰ کسی پر ظاہر کرے اور وہ پورا ہو جائے تو بلاشبہ اس کی قبولیت پر ایک دلیل ہوگی اور یہ کہنا کہ نجومی یارتال اس میں شریک ہیں یہ سراسر خیانت اور مخالف تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ( الجن : ۲۷، ۲۸) پس جب کہ خدا تعالیٰ نے امور غیبیہ کو اپنے مرسلین کی ایک علامت خاصہ قرار دی ہے۔چنانچہ دوسری جگہ بھی فرمایا ہے وَ اِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ (المؤمن : ٢٩ ) تو پھر پیشگوئی کو استخفاف کی نظر سے دیکھنا اور لکڑی کا سانپ بنانے کے لئے درخواست کرنا انہیں مولویوں کا کام ہے جنہوں نے قرآن کریم میں خوض کرنا چھوڑ دیا اور نیز زمانہ کی ہوا سے