تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 295

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ سورة طه وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ أعلى ۱۲۵ جو شخص میرے فرمودہ سے اعراض کرے اور اس کے مخالف کی طرف مائل ہو تو اس کے لئے تنگ معیشت ہے یعنی وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب ہے اور قیامت کو اندھا اٹھایا جائے گا۔اب ہم اگر ایک حدیث کو صریح قرآن کریم کے مخالف یا ئیں اور پھر مخالفت کی حالت میں بھی اس کو مان لیں اور اس تخالف کی کچھ بھی پرواہ نہ کریں تو گویا اس بات پر راضی ہو گئے کہ معارف حقہ سے بے نصیب رہیں اور قیامت کو اندھے اٹھائے جائیں۔الحق لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۷) بہشتی زندگی والا انسان خدا کی یاد سے ہر وقت لذت پاتا ہے اور جو بد بخت دوزخی زندگی والا ہے تو وہ ہر وقت اس دنیا میں زقوم ہی کھا رہا ہے۔اس کی زندگی تلخ ہوتی ہے۔مَعِيشَةً ضَنگا بھی اس کا نام ہے جو قیامت کے دن زقوم کی صورت پر متمثل ہو جائے گی۔غرض دونوں صورتوں میں باہم رشتے قائم ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۳۰ مورخه ۷ اراگست ۱۹۰۳ صفحه ۱۰)