تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 293

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۳ سورة طه انبیاء کے علم میں بھی تدریجاً ترقی ہوتی ہے اس لئے قرآن شریف میں آیا ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۰ مورخہ ۷ ار مارچ ۱۹۰۱ صفحه (۸) مرشد اور مرید کے تعلقات استاد اور شاگرد کی مثال سے سمجھ لینے چاہئیں جیسے شاگر داستاد سے فائدہ اٹھاتا ہے اسی طرح مرید اپنے مرشد سے لیکن شاگرد اگر استاد سے تعلق تو رکھے مگر اپنی تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھائے تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال مرید کا ہے۔پس اس سلسلہ میں تعلق پیدا کر کے اپنی معرفت اور علم کو بڑھانا چاہیے۔طالب حق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہر گز ٹھہرنا نہیں چاہیے ورنہ شیطان لعین اور طرف لگا دے گا اور جیسے بند پانی میں عفونت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لئے سعی نہ کرے تو وہ گر جاتا ہے۔پس سعادت مند کا فرض ہے کہ وہ طلب دین میں لگار ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرا لیکن آپ کو بھی رَبِّ زِدْنِي عِلما کی دعا تعلیم ہوئی تھی پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے۔جوں جوں انسان اپنے علم اور معرفت میں ترقی کرے گا اسے معلوم ہوتا جاوے گا کہ ابھی بہت سی باتیں حل طلب باقی ہیں۔بعض امور کو وہ ابتدائی نگاہ میں ( اس بچے کی طرح جو اقلیدس کے اشکال کو محض بیہودہ سمجھتا ہے ) بالکل بیہودہ سمجھتے تھے لیکن آخر وہی امور صداقت کی صورت میں ان کو نظر آئے اس لئے کس قدر ضروری ہے کہ اپنی حیثیت کو بدلنے کے ساتھ ہی علم کو بڑھانے کے لئے ہر بات کی تکمیل کی جاوے۔( الکام جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۷ار جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۵) وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا یادر ہے کہ یہ حوا کا گناہ تھا کہ براہ راست شیطان کی بات کو مانا اور خدا کے حکم کو توڑا اور سچ تو یہ ہے کہ حوا کا نہ ایک گناہ بلکہ چار گناہ تھے (۱) ایک یہ کہ خدا کے حکم کی بے عزتی کی اور اس کو جھوٹا سمجھا (۲) دوسرا یہ کہ خدا کے دشمن اور ابدی لعنت کے مستحق اور جھوٹ کے پتلے شیطان کو سچا سمجھ لیا (۳) تیسرا یہ کہ اس نافرمانی کوصرف عقیدہ تک محدود نہ رکھا بلکہ خدا کے حکم کو توڑ کر عملی طور پر ارتکاب معصیت کیا۔(۴) چوتھا یہ کہ حوا نے نہ صرف آپ ہی خدا کا حکم تو ڑا بلکہ شیطان کا قائم مقام بن کر آدم کو بھی دھوکا دیا تب آدم نے محض حوا کی دھوکا دہی سے وہ پھل کھایا جس کی ممانعت تھی اسی وجہ سے حوا خدا کے نزدیک سخت گناہ گار ٹھہبری مگر آدم معذور سمجھا گیا محض