تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 290
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۰ سورة طه وہاں نہ وہ جیتا ہے نہ مرتا ہے۔یہ ایک جرم کی سزا ہے اور جو ہزاروں لاکھوں جرموں کا مرتکب ہو اس کا کیا حال ہو گا لیکن اگر کوئی شخص عدالت میں پیش ہو اور بعد ثبوت اس پر فرد قرار داد جرم بھی لگ جاوے اور اس کے بعد عدالت اس کو چھوڑ دے تو کس قدر احسان عظیم اس حاکم کا ہو گا۔اب غور کرو کہ یہ تو بہ وہی بریت ہے جو فر و قرارداد جرم کے بعد حاصل ہوتی ہے تو بہ کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ پہلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اس لئے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ کس قدر گناہوں میں وہ مبتلا تھا اور ان کی سزا کس قدر اس کو ملنے والی تھی جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے معاف کر دی۔الحکم جلدے نمبر ۳۸ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۳ صفحه ۲) صرف زبان سے کہنا آسان ہے کہ جہنم میں پڑنا منظور۔اگر انہیں اس دکھ درد کی کیفیت معلوم ہو تو پتہ لگے۔ایک آنکھ میں ذرا درد ہو تو معلوم ہو جاتا ہے کہ کس قدر تکلیف ہے۔پھر جہنم تو وہ جہنم ہے جس کی بابت قرآن شریف میں آیا ہے لَا يَمُوتُ فِيهَا وَ لا یعنی۔ایسے لوگ سخت غلطی پر ہیں اس کا تو فیصلہ آسان ہے دنیا میں دیکھ لے کہ کیا وہ دنیا کی بلاؤں پر صبر کر سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔تو پھر یہ کیوں کر سمجھ لیا کہ عذاب جہنم کو برداشت کر لیں گے۔بعض لوگ تو دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر یہ لوگ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔یقیناً سمجھو کہ جہنم کا عذاب بہت ہی خطرناک ہے۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۵ صفحه ۲) أَفَلَا يَرَوْنَ أَلا يرجعُ إِلَيْهِمْ قَوْلاً وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَ لَا نَفْعًان قرآن شریف میں ایک مقام پر ان لوگوں کے لئے جو گوسالہ پرستی کرتے ہیں اور گوسالہ کو خدا بناتے ہیں آیا ہے اَلا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَولاً کہ وہ ان کی بات کا کوئی جواب ان کو نہیں دیتا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو خدا بولتے نہیں ہیں وہ گوسالہ ہی ہیں۔ہم نے عیسائیوں سے بار ہا پو چھا ہے کہ اگر تمہارا خدا ایسا ہی ہے جو دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کے جواب دیتا ہے تو بتاؤ وہ کس سے بولتا ہے؟ تم جو یسوع کو خدا کہتے ہو پھر اس کو بلا کر دکھاؤ۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ سارے عیسائی اکٹھے ہو کر بھی یسوع کو پکاریں وہ یقیناً کوئی جواب نہ دے گا کیونکہ وہ مر گیا۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) مجیب اور ناطق خدا ہمارا ہی ہے جو ہماری دعاؤں کو سنتا اور ان کے جواب دیتا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ جو خدا پیش کرتے ہیں وہ لَا يَرْجِعُ اليهم قولا کا مصداق ہورہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بوجہ ان